نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 377
۳۵۶ دائمی ہونے کے بارہ میں خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔سواے عزیز و! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے۔تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔سواب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے۔اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے۔کیونکہ وہ دائمی ہے۔جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا“۔( الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۳۰۶،۳۰۵) اسی طرح حضور اپنی کتاب شہادۃ القرآن میں فرماتے ہیں:۔ان آیات کو اگر کوئی شخص تامل اور غور کی نظر سے دیکھے تو میں کیونکر کہوں کہ وہ اس بات کو سمجھ نہ جائے کہ خدا تعالیٰ اس امت کے لئے خلافت دائمی کا صاف وعدہ فرماتا ہے۔اگر خلافت دائمی نہیں تھی تو شریعت موسوی کے خلیفوں سے تشبیہہ دینا کیا معنی رکھتا تھا۔(شہادۃ القرآن ص ۵۷ روحانی خزائن جلد ۶ ) حضرت مصلح موعودؓ نے ”الوصیت“ کے اس حوالہ کی روشنی میں قدرت ثانیہ یعنی خلافت احمدیہ کے دائی ہونے کی نسبت مزید وضاحت یہ فرمائی:۔جیسے موسی کے بعد ان کی خلافت عارضی رہی لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد ان کی خلافت کسی نہ کسی شکل میں ہزاروں سال تک قائم رہی۔اسی طرح گورسول کریم ہے کے بعد خلافت محمدیہ تو اتر کے رنگ میں عارضی رہی لیکن مسیح محمدی کی خلافت مسیح موسوی کی طرح ایک غیر متعین عرصہ تک چلتی چلی جائے گی۔(الفضل ۳ را پریل ۱۹۵۲ء)