نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 379 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 379

۳۵۸ پس کامل بھروسہ اور کامل تو کل تھا اللہ کی ذات پر کہ وہ خلافت احمدیہ کو بھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔ہمیشہ قائم و دائم رکھے گا۔زندہ اور تازہ اور جوان اور ہمیشہ مہکنے والی عطر کی خوشبو سے معطر رکھتے ہوئے اس شجرہ طیبہ کی صورت میں اس کو ہمیشہ زندہ اور قائم رکھے گا۔جس کے متعلق وعدہ ہے اللہ تعالی کا۔۔۔کہ ایسا شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑیں زمین میں گہری پیوست ہیں اور کوئی دنیا کی طاقت اسے اکھاڑ کر پھینک نہیں سکتی۔یہ شجرہ خبیثہ نہیں ہے کہ جس کے دل میں آئے وہ اسے اٹھا کر، اسے اکھاڑ کے ایک جگہ سے دوسری جگہ پھینک دے۔کوئی آندھی، کوئی ہوا اس ( شجرہ طیبہ ) کو اپنے مقام سے ٹلا نہیں سکے گی اور شاخیں آسمان سے اپنے رب سے باتیں کر رہی ہیں اور ایسا درخت نو بہار اور سدا بہار ہے۔ایسا عجیب ہے یہ درخت کہ ہمیشہ نو بہار رہتا ہے کبھی خزاں کا منہ نہیں دیکھتا۔(الفضل ۲۲ جون ۱۹۸۲ء) ایک غلط فہمی کا ازالہ جماعت احمدیہ کے ایک اجل عالم و فاضل فرزند حضرت مسیح موعود حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے کا ایک مضمون بعنوان ”اسلامی خلافت کا نظریہ“ کے عنوان سے مورخہ ۲۵ دسمبر ۱۹۵۱ء کو روزنامه الفضل ص ۲ تا ۶ میں شائع ہوا۔جس میں آپ نے اس سوال کہ کیا خلافت کا نظام دائمی ہے؟ کا جو جواب دیا ہے وہ جماعت احمدیہ کے عقیدہ کے برخلاف نظر آتا ہے۔حضرت میاں صاحب کے اس مضمون سے یہ تاثر ملتا ہے کہ خلافت احمدیہ پر بھی ایک وقت ایسا آئے گا کہ خلافت احمد یہ بھی ملوکیت میں تبدیل ہو جائے گی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔سوال کرنے والے لوگ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا خلافت کا نظام دائی ہے؟ یعنی کیا