نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 325 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 325

ہوئی ان میں سے سب سے نمایاں نام جنرل ضیاء الحق صدر پاکستان کا ہے جو ۱۷ اگست ۱۹۸۸ء کو طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوئے اور ان کا جہاز جل کر راکھ ہو گیا اور دانتوں کے مصنوعی ڈھانچے سے ان کی شناخت ہوئی۔اس سے قبل مباہلہ کے چینج کے ٹھیک ایک ماہ بعد اسلم قریشی نامی شخص منظر عام پر آ گیا جس کے قتل کا الزام حضرت خلیفتہ المسیح الرابع پر علماء نے قسمیں کھا کر لگایا تھا۔ان لوگوں کو بے پناہ ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری طرف جماعت نے ترقیات کے میدانوں میں نئی جستیں لگائیں اور نئے نئے سنگ میل نصب کئے۔جنوری ۱۹۹۷ء میں حضور نے پھر ایک دفعہ اس چیلنج کو دہرایا اور اس دعا کا چیلنج دیا کہ جو جھوٹا ہے اس پر خدا کی لعنت ہو۔اس پر بھی بہت سے دشمنوں کو ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔خلافت رابعہ میں بیشمار چھوٹے بڑے معاندین کے متعلق الہی نشانات ظاہر ہوئے۔بعض مارے گئے اور بعض زندہ رہ کر ذلیل وخوار ہوئے۔ان کی تفصیل ایک الگ مقالہ کا تقاضا کرتی ہے۔حضور نے ۱۹۹۴ء میں مخالفین کو چیلنج دیا کہ اگر وہ مسیح کو اس صدی کے خاتمہ سے پہلے آسمان سے اتار دیں تو ہر مدعی کو ایک ایک کروڑ روپیہ انعام دیا جائے گا۔صد سالہ جوبلی کی تیاری صد سالہ جو بلی سے قبل حضور کی خواہش تھی کہ جماعت ہر قسم کے جھگڑوں اور فساد سے پاک ہو جائے اور نماز با جماعت اور اعلیٰ اخلاق سے مزین ہو کر نئی صدی میں داخل ہو۔چنانچہ حضور نے ۱۹۸۷ء سے مختلف خطبات میں جماعت کو اس مقصد کے