نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 280 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 280

۲۵۹ کیوں نہ ہو مرکزی حکم کے بغیر اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترک نہ کرے گا اور اپنے کسی بھائی سے خواہ اسے شدید تکلیف بھی کیوں نہ پہنچی ہو اس سے بات چیت کرنا ترک نہ کرے گا۔اور اگر وہ دعوت کرے تو اسے رد نہ کرے گا۔ایک اور شرط یہ ہے کہ سلسلہ کی طرف سے اسے جو سزا دی جائے گی اسے بخوشی برداشت کرے گا اور ایک یہ کہ اس کام میں نفسانیت اور ذاتی نفع نقصان کے خیالات کو نظر انداز کر دے گا“۔(الفضل یکم جنوری ۱۹۴۵ء) الفضل گیارہ جون ۱۹۴۵ء کے مطابق وہ خوش نصیب مخلصین جو اس بابرکت تحریک میں شامل ہوئے ان کی تعدا دےے ایک پہنچ چکی تھی۔نماز تہجد پڑھنے کی تحریک ذکر الہی ، نوافل اور نماز تہجد کی ادائیگی کی تحریک حضور ہمیشہ ہی فرماتے تھے۔اس بابرکت دور میں نو جوانوں کو خصوصیت سے اس طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔خدام کا فرض ہے کہ کوشش کریں سو فیصدی نوجوان نماز تہجد کے عادی ہوں یہ ان کا اصل کام ہوگا جس سے سمجھا جائے گا کہ دینی روح ہمارے نوجوانوں میں پیدا ہوگئی ہے۔نماز تہجد کے فوائد بیان کرنے کے بعد حضور نے فرمایا:۔با قاعدہ تہجد پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ سو فیصدی تہجد گزار ہوں الا ما شاء اللہ سوائے ایسی کسی صورت کے کہ وہ مجبوری کی وجہ سے ادا نہ کر سکیں اور خدا تعالیٰ کے حضور ایسے معذور ہوں کہ اگر فرض نماز بھی جماعت کے ساتھ ادا نہ کر سکیں تو قابل معافی ہوں“۔(الفضل نے جولائی ۱۹۴۴ء)