نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 279
۲۵۸ پر باہر سے آنے والے کی مہمان نوازی تین دن فرض ہے۔میں سمجھتا ہوں اس میں رسول کریم ﷺ نے تبلیغ کے طریق کی طرف ہی اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے اگر تم کسی بستی سے تین دن کھانا کھاتے ہو تو یہ بھیک نہیں ہاں اگر تین دن سے زائد ٹھہر کر تم ان سے کھانا مانگتے ہو تو یہ بھیک ہوگی۔اگر ہماری جماعت کے دوست بھی اسی طرح کریں کہ وہ گھروں سے تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہوں ایک ایک گاؤں اور ایک ایک بستی اور ایک ایک شہر میں تین تین دن ٹھہرتے جائیں اور تبلیغ کرتے جائیں۔اگر کسی گاؤں والے لڑیں تو جیسے حضرت مسیح ناصری نے کہا تھا وہ اپنے پاؤں سے خاک جھاڑ کر آگے نکل جائیں تو میں سمجھتا ہوں تبلیغ کا سوال ایک دن میں حل ہو جائے“۔حلف الفضول (الفضل ۲۱ دسمبر ۱۹۴۴ء) آنحضرت ﷺ کی بعثت سے قبل مظلوموں کی حمایت اور انہیں ان کا حق دلوانے کے لئے ایک معاہدہ ہوا جو تاریخ میں حلف الفضول کے نام سے مشہور ہے۔حضور ے۔اس میں شامل ہوئے اور اس معاہدہ کی روح پر مدت العمر عمل پیرار ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے بھی احباب جماعت کو اس نہایت اہم تحریک کی طرف بلایا۔آپ فرماتے ہیں: ” جولوگ اس میں شامل ہونا چاہئیں ان کے لئے لازمی ہے کہ سات دن تک متواتر اور بلا ناغہ استخارہ کریں۔عشاء کی نماز کے بعد دو نفل الگ پڑھ کر دعا کریں کہ اے خدا اگر میں اس کو نباہ سکوں گا تو مجھے اس میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرما۔ایک اور شرط یہ ہوگی کہ ایسا شخص خواہ امام لصلوۃ کے ساتھ اسے ذاتی طور پر کتنا ہی اختلاف