نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 278
۲۵۷ اخلاق کے ماہر ہونے چاہئیں۔تم میں سینکڑوں علم تصوف کے ماہر ہونے چاہئیں۔تم میں سینکڑوں منطق اور فلسفہ اور فقہ اور لغت کے ماہر ہونے چاہئیں تا کہ جب ان سینکڑوں میں سے کوئی شخص فوت ہو جائے تو تمہارے پاس ہر علم اور ہرفن کے ۴۹۹ عالم موجود ہوں۔ہمارے لئے یہ خطرہ کی بات نہیں ہے کہ حضرت خلیفہ اول بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا مولوی عبدالکریم صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا مولوی برہان الدین صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا حافظ روشن علی صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا قاضی امیرحسین صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا میر محمد الحق صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے بلکہ ہمارے لئے خطرہ کی بات یہ ہے کہ جماعت کسی وقت بحیثیت جماعت مرجائے اور ایک عالم کی جگہ دوسرا ہمیں اپنی جماعت میں دکھائی نہ دے“۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۴ء ص ۱۷۴ تا ۱۷۸) دیوانہ وار تبلیغ کی تحریک فرماتے ہوئے حضور نے ارشاد فرمایا:۔دنیا میں تبلیغ کرنے کے لئے ہمیں ہزاروں مبلغوں کی ضرورت ہے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مبلغ کہاں سے آئیں اور ان کے اخراجات کون برداشت کرے۔میں نے بہت سوچا ہے مگر بڑے غور وفکر کے بعد میں سوائے اس کے اور کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا کہ جب تک وہی طریق اختیار نہیں کیا جائے گا جو پہلے زمانوں میں اختیار کیا گیا تھا۔اس وقت تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔۔۔حضرت مسیح ناصری نے اپنے حواریوں سے کہا کہ تم دنیا میں نکل جاؤ اور تبلیغ کرو جب رات کا وقت آئے تو جس بستی میں تمہیں ٹھہرنا پڑے اس بستی کے رہنے والوں سے کھانا کھاؤ اور پھر آگے چل دو۔رسول کریم نے بھی بڑی حکمت سے یہ بات اپنی امت کو سکھائی ہے۔آپ نے فرمایا ہر بستی