نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 277 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 277

۲۵۶ حالانکہ اسلام تو ایک محیط کل مذہب ہے۔اس کے احکام کی تکمیل کے لئے ہمیں ہر قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے۔وہی مبلغ نہیں جو تبلیغ کے لئے باہر جاتا ہے۔جو سلسلہ کی جائیدادوں کا انتظام تندہی اور اخلاص سے کرتا ہے اور باہر جانے والے مبلغوں کے لئے اور سلسلہ کے لٹریچر کے لئے روپیہ زیادہ سے زیادہ مقدار میں کماتا ہے وہ اس سے کم نہیں اور خدا تعالیٰ کے نزدیک مبلغوں میں شامل ہے جو سلسلہ کی عمارتوں کی اخلاص سے نگرانی کرتا ہے وہ بھی مبلغ ہے جو سلسلہ کے لئے تجارت کرتا ہے۔وہ بھی مبلغ ہے جو سلسلہ کا کارخانہ چلاتا ہے۔وہ بھی مبلغ ہے جو زندگی وقف کرتا ہے اور اسے سلسلہ کے خزانہ کا پہریدار مقرر کیا جاتا ہے۔وہ بھی مبلغ ہے۔کسی کام کی نوعیت کا خیال دل سے نکال دو اور اپنے آپ کو سلسلہ کے ہاتھ میں دے دو۔پھر جہاں تم کو مقرر کیا جائے گا وہی مقام تمہاری نجات اور برکت کا مقام ہوگا“۔(الفضل ۳۱ مارچ ۱۹۴۴ء) کالج فنڈ کی تحریک جماعت کے نوجوانوں کی علمی و تربیتی ضروریات کو بہت رنگ میں پورا کرنے کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپیہ چندہ کی تحریک فرمائی اور حضور نے اس مد میں گیارہ ہزار روپے چندہ ادا فر مایا۔(الفضل ۲۳ مئی ۱۹۴۴ء) ماہرین علوم پیدا کر نے کی تحریک اس سلسلہ میں حضور ارشاد فرماتے ہیں:۔تم اپنے آپ کو روحانی لحاظ سے مالدار بنانے کی کوشش کرو۔تم میں سینکڑوں فقیہہ ہونے چاہئیں۔تم میں سینکڑوں محدث ہونے چاہئیں۔تم میں سینکڑوں مفسر ہونے چاہئیں۔تم میں سینکڑوں علم کلام کے ماہر ہونے چاہئیں۔تم میں سینکڑوں علم