نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 233
۲۱۲ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضوڑ کے وصال کے بعد آپ کی تدفین سے پہلے جب آپ کی نعش مبارک بہشتی مقبرہ میں تدفین کے لئے لائی گئی تو جماعت کے بر سر آوردہ لوگوں نے باہم مشورہ سے نئے امام کی جانشینی کے مسئلے پر غور کرنا شروع کیا۔مکرم خواجہ کمال الدین صاحب نے جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت صاحب کی وفات سے دو چار روز پہلے رویا میں یہ دکھایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت حکیم نورالدین صاحب آپ کی جانشینی کریں گے۔بزرگان جماعت اور انجمن کے سرکردہ ممبروں میں حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب کو خلیفہ منتخب کرنے کے بارہ میں رائے ظاہر کی۔تمام احباب جماعت کی نظریں پہلے ہی اس بزرگ اور عاشق صادق غلام پر پڑ رہی تھیں۔چنانچہ بلا توقف ہر ایک نے آپ کے حق میں رائے دی۔البتہ مولوی محمد احسن صاحب سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے بھی مشورہ کر لینا ضروری ہے۔چنانچہ جب آپ سے مشورہ لیا گیا تو آپ نے نہایت شرح صدر سے اس رائے سے اتفاق کرتے ہوئے فرمایا:۔”حضرت مولانا سے بڑھ کر کوئی نہیں اور خلیفہ ضرور ہونا چاہئے اور حضرت مولانا ہی خلیفہ ہونے چاہئیں ورنہ اختلاف کا اندیشہ ہے اور حضرت اقدس کا ایک الہام ہے کہ اس جماعت کے دو گروہ ہوں گے ایک کی طرف خدا ہو گا“۔(اصحاب احمد جلد دوم ص ۵۸۹ طبع اول ۱۹۵۲ء) حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اکابرین جماعت نے جب متفقہ طور پر یہ درخواست کی کہ وہ خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو آپ نے ایک نہایت پر از معرفت تقریر فرمائی جس میں جماعت کو تو حید کا سبق دے