نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 234 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 234

۲۱۳ کر الہی خوشخبریوں کے پورا ہونے کے فلسفہ کے بارہ میں کچھ فرمایا اور پھر اپنے امام منتخب ہونے سے متعلق اپنے دلی جذبات اور خیالات کا ان الفاظ میں اظہار فرمایا:۔”میری پچھلی زندگی پر غور کرلو۔میں کبھی امام بنے کا خواہشمند نہیں ہوا۔مولوی عبد الکریم مرحوم امام الصلوۃ بنے تو میں نے بھاری ذمہ داری سے اپنے تئیں سبکدوش خیال کیا تھا۔میں اپنی حالت سے خوب واقف ہوں اور میرا رب مجھ سے بھی زیادہ واقف ہے میں دنیا میں ظاہر داری کا خواہشمند نہیں۔میں ہرگز ایسی باتوں کا خواہشمند نہیں۔اگر خواہش ہے تو یہ کہ میرا مولیٰ مجھ سے راضی ہو جائے۔اس خواہش کے لئے میں دعائیں کرتا ہوں۔قادیان بھی اسی لئے رہا اور رہتا ہوں اور رہوں گا۔میں نے اس فکر میں کئی دن گزارے کہ ہماری حالت حضرت صاحب کے بعد کیا ہوگی۔اسی لئے میں کوشش کرتا رہا کہ میاں محمود کی تعلیم اس درجہ تک پہنچ جائے۔۔۔اگر تم میری بیعت ہی کرنا چاہتے ہو تو سن لو کہ بیعت بک جانے کا نام ہے“۔آخر میں آپ نے ارشاد فرمایا:۔اب تمہاری طبیعتوں کے رخ خواہ کسی طرف ہوں ، تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہوگی۔اگر یہ تمہیں منظور ہو تو طوعاً و کرہا اس بوجھ کو اٹھاتا ہوں۔وہ بیعت کے دس شرائط بدستور قائم ہیں۔ان میں خصوصیت سے میں قرآن کو سیکھنے اور زکوۃ کا انتظام کرنے ، واعظین کے بہم پہنچانے اور ان امور کو جو وقتا فوقتا اللہ میرے دل میں ڈالے، شامل کرتا ہوں۔پھر تعلیم دینیات، دینی مدرسے کی تعلیم میری مرضی اور منشاء کے مطابق کرنا ہوگی اور میں اس بوجھ کو صرف اللہ کے لئے اٹھاتا ہوں جس نے فرمایا:۔وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَّدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ۔یا درکھو کہ ساری خوبیاں وحدت میں