نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 232 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 232

۲۱۱ سرانجام دینے کی ذمہ دار ہوگی۔بیرون پاکستان مقیم کچھ احباب کو حضور نے صدرانجمن احمدیہ کا ممبر مقرر فرمایا تھا۔اس ضمن میں حضور نے یہ قاعدہ منظور فرمایا کہ اگر انتخاب خلافت لندن میں ہو تو انگلستان میں موجود صدرانجمن احمد یہ کے اراکین پر مشتمل انجمن کا فرض ہوگا کہ جب تک صدر انجمن احمدیہ کے اراکین لندن نہ پہنچے وہ وہ اپنے جملہ فرائض صدرانجمن احمدیہ پاکستان کی نمائندگی میں صدر انجمن پاکستان کی ہدایات کے مطابق ان کے اٹارنی کے طور پر ادا کرے۔انگلستان میں صدر انجمن احمدیہ کے اجلاسات صدر صدر انجمن احمد یہ یا ایڈیشنل صدرصد را انجمن احمد یہ پاکستان کی صدارت میں ہوں گے۔اگر وہ انگلستان میں موجود نہ ہوں تو صدارت کے اختیارات ناظر اعلی صدرانجمن احمد یہ پاکستان کو اور ان کی عدم موجودگی میں یہ اختیارات ایڈیشنل ناظر اعلی کو حاصل ہوں گے۔حضور نے بعض ترامیم کی نشاندہی فرمائی جو اس احتمال کے پیش نظر کہ اگر انتخاب خلافت کا موقع لندن میں پیش آئے حضور نے ارشاد فرمایا کہ اگر انتخاب خلافت ربوہ میں ہو تو بعض ترامیم منسوخ ہو جائیں گی۔ریکارڈ دفتر پرائیویٹ سیکر یٹری) انتخاب خلافت اولی جماعت احمدیہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال پر متفقہ طور پر جس طریق پر اجماع کیا وہ خلافت راشدہ کا طریق تھا۔اس کے مقابل پر پیری مریدی یا بادشاہی کے فرسودہ نظام کو بھی رد کر دیا گیا اور دنیاوی جمہوریت کے اس نظام کو بھی ٹھکرا دیا گیا جو مغربی فسلفہ کی پیداوار ہے۔