نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 174
۱۵۳ لہذا اس پیشگوئی کے مطابق ضروری تھا کہ خلافت راشدہ جس کا دور حضرت علی کی شہادت کے وقت تقریبا تمیں سال بنتا ہے، اپنے اختتام کو پہنچ جاتی۔ا۔ایک دوسری روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت حسن کے بارہ میں یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ میرے اس نواسے کے ذریعے خدا دو مسلمان گروہوں میں صلح کروائے گا۔(بخاری بحواله مشکواۃ باب مناقب اہل بیت و فتح الباری شرح حدیث مذکور) پس آنحضرت ﷺ کی اس پیشگوئی کے مطابق بھی ضروری تھا کہ حضرت امام حسن امت محمدیہ میں پیدا ہونے والے انشقاق و افتراق کو ختم کرنے کے لئے خلافت سے دستبرداری اختیار کرتے۔لہذا حضرت امام حسنؓ کے اس فعل کو مقام مدح میں سمجھا گیا ہے۔چنانچہ حضرت حسن کے اس فعل کے بارہ میں اس زمانہ کے حکم وعدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فیصلہ یہ ہے کہ :۔حضرت حسنؓ نے میری دانست میں بہت اچھا کام کیا کہ خلافت سے الگ ہو گئے۔پہلے ہی ہزاروں خون ہو چکے تھے۔انہوں نے پسند نہ کیا کہ اور خون ہوں۔اس لئے معاویہ سے گزارہ لے لیا۔۔۔حضرت امام حسنؓ نے پسند نہ کیا کہ مسلمانوں میں خانہ جنگی بڑھے اور خون ہوں۔انہوں نے امن پسندی کو مدنظر رکھا اور حضرت امام حسین نے پسند نہ کیا کہ فاسق و فاجر کے ہاتھ پر بیعت کروں کیونکہ اس سے دین میں خرابی ہوتی ہے۔دونوں کی نیت نیک تھی۔إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَاتِ“۔( ملفوظات جلد چہارم نیا ایڈیشن ص ۵۷۹ ،۵۸۰) اس مسئلہ پر جماعت کے مستند عالم، سلطان القلم اور حضرت مسیح موعوڈ کے