نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 175
۱۵۴ صاحبزادے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے بھی سیرۃ خاتم النبین میں روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔یہ سوال کہ کوئی خلیفہ یا امیر با قاعدہ طور پر منتخب یا مقرر ہونے کے بعد خود بعد میں کسی مصلحت کی بناء پر خلافت سے دستبردار ہوسکتا ہے یا نہیں؟ ایک ایسا سوال ہے جس کے متعلق اسلامی شریعت میں کوئی نص نہیں پائی جاتی مگر ظاہر ہے کہ اس معاملہ میں دنیوی امراء کے متعلق تو کوئی امر مانع نہیں سمجھا جاسکتا۔البتہ دینی خلفاء کا سوال قابل غور ہے۔تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ جب حضرت عثمان خلیفہ ثالث سے ان کے زمانہ کے باغیوں نے یہ درخواست کی کہ آپ خود بخو دخلافت سے دستبردار ہو جائیں ور نہ ہم آپ کو جبراً الگ کر دیں گے تو اس پر حضرت عثمان نے یہ جواب دیا کہ جو عزت کی قمیص خدا نے مجھے پہنائی ہے میں اسے خود اپنی مرضی سے کبھی نہیں اتاروں گا (طبری و تاریخ کامل ابن اثیر حالات قتل حضرت عثمان نیز زرین عن عبد اللہ بن سلام بحوالہ تلخیص الصحاح باب فی ذکر الخلفاء الراشدین)۔جس میں آنحضرت میہ کے اس ارشاد کی طرف اشارہ تھا جو آپ نے حضرت عثمان سے فرمایا تھا کہ خدا تمہیں ایک قمیص پہنائے گا اور لوگ اسے اتارنا چاہیں گے مگر تم اسے نہ اتارنا ( ترندی بحوالہ مشکوۃ باب مناقب عثمان )۔لیکن اس کے مقابلہ میں حضرت امام حسن کا یہ فعل ہے کہ انہوں نے امت محمدیہ کے اختلاف کو دیکھتے ہوئے امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دستبرداری اختیار کر لی ( بخاری عن حسن بصری کتاب الصلح نیز طبری و تاریخ کامل ابن اثیر حالات ۴۱ ہجری)۔اور روایت آتی ہے کہ اس سے آنحضرت کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ میرے اس نواسے کے ذریعہ خدا دو مسلمان گروہوں میں صلح کروائے گا ( بخاری بحوالہ مشکوۃ باب مناقب اہل بیت و فتح الباری شرح حدیث مذکور )۔گویا امام حسن کے اس فعل کو مقام مدح میں سمجھا گیا ہے کہ ان کی