نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 160 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 160

۱۳۹ وعدہ فرمایا ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ “ جو وعدے ہیں دراصل مسیح موعود علیہ السلام کے آنے تک کی دیر ہے۔جب مسیح موعود علیہ السلام آجائیں تو پھر فرمایا کہ ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ پھر خلافت قائم ہوگی اور منہاج نبوت پر قائم ہوگی۔اور یہ وہ خلافت ہے جس کا آیت استخلاف میں ذکر ہے۔“ (خطبہ جمعہ فرموده ۲۷ را گست ۱۹۹۳ء بحوالہ ماہنامہ خالد ر بوه مئی ۹۴، ص ۲ تا ۴ ) مسئلہ خلافت اور اہل تشیع شیعی فقیہوں نے امامت کے اصول کو اپنے عقیدہ کا ایک بنیادی اصول قرار دیا ہے۔انہوں نے نص پر زور دیا ہے اور خلیفہ کے عہدے کو نہ صرف قریش کے خاندان بلکہ صرف حضرت علیؓ کے خاندان تک محدود کر دیا ہے اور یہ عقیدہ اپنایا کہ حضرت علی کو رسول اللہ ﷺ نے براہ راست اپنا جانشین نامزد کیا تھا اور حضرت علی کی صفات کو ان کی اولاد نے وراثتینا پایا اور یہ لوگ ابتدائے آفرینش ہی سے اس اعلیٰ عہدے کے لئے مقرر کئے گئے تھے۔رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت علی کو کچھ پر اسرار علوم سکھائے تھے جو حضرت علیؓ نے بعد میں اپنے فرزندوں کو بتائے اور اس طرح سے وہ نسلاً بعد نسل ایک دوسرے کو منتقل ہوتے رہے۔ابن خلدون نے شیعی نقطہ نظر بیان کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں:۔امامت عوامی مسائل میں سے نہیں کہ اسے امت کے سپر د کر دیا جائے اور امت کانگران خود امت کے مقرر کرنے سے متعین ہوا کرے بلکہ یہ تو دین کا رکن اور اسلام کی بنیاد ہے۔کسی نبی کے لئے اس مسئلے سے غفلت کرنا یا امت کو تفویض کرنا جائز نہیں بلکہ نبی کے لئے واجب ہے کہ وہ امامت کا امام خود متعین کر کے جائے۔یہ امام کبیرہ و