نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 134 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 134

۱۱۳ میں داخل ہو کر اس کی غلامی کا دم بھرنا اور یہ کوشش کرتے رہنا کہ اس کی اطاعت سے باہر نہ جایا جائے۔یہی وہ حبل اللہ ہے اور انبیاء کی وفات کے بعد یہ حبل اللہ جاری رہتی ہے اور نبوت کے بعد سب سے اعلیٰ شکل خلافت کی صورت میں ملتی ہے۔آنحضرت ﷺ سے مروی ہے:۔عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلِيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيْغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِعٍ فَأَوْصِنَا فَقَالَ أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللهِ وَالسَّمْع وَالطَّاعِةِ وَ إِنْ كَانَ عَبْدًا حَبْشِيًا فَإِنَّهُ مَنْ يَّعْشِ مِنْكُمُ بَعْدِى فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا فَعَلَيْكُمُ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِيْنَ الْمَهْدِيَّنَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِدِ وَإِيَّاكُمُ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ۔(مشكوة المصابيح باب الاعتصام بالكتاب والسنة ص ٣٠) حضرت عرباض بن ساریہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اکرم ﷺ نے نماز کے بعد نہایت ہی مؤثر وعظ فرمایا۔وہ ایسا دردناک وعظ تھا کہ آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور دل ڈر سے بھر گئے۔ایک صحابی نے عرض کی کہ یا رسول اللہ یہ تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ الوداع کہنے والے کا وعظ ہے حضور ہمیں کوئی وصیت فرمائیں۔رسول اکرمی نے فرمایا کہ میری وصیت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور امام اور خلیفہ وقت کی پوری پوری اطاعت کرو۔خواہ حبشی غلام ہو۔یاد رکھو کہ میرے بعد زندہ رہنے والے بہت سے اختلاف دیکھیں گے۔پس تم پر فرض ہے کہ میری سنت اور خلفاء راشدین کی