نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 135
۱۱۴ سنت کو لازم پکڑو۔پوری طرح اس کی اتباع کرو اور پختہ طور پر اس پر قائم ہو جاؤ۔نئے نئے امور سے بچتے رہنا کیونکہ ہرنئی بات بدعت اور ہر بدعت ضلالت ہے۔صحاح ستہ کی اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ تمام فتنوں اور بدعتوں کا علاج صرف یہ ہے کہ سنت النبی اور سنت الخلفاء الراشدین کو ہبر بنایا جائے۔دین حنیف کے قیام اور اس کی حفاظت کا یہی طریق ہے کہ سنت نبوی اور سنت خلفاء راشدین کی اتباع کی جائے گویا اس حدیث میں رسول اکرم ﷺ نے آیت استخلاف اور آیت إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ۔(المائده : ٤) کی تفسیر فرما دی کہ نبوت کے بعد دین کا قیام خلافت سے وابستہ ہے۔ہم بتا چکے ہیں کہ از روئے قرآن مجید و احادیث نبویہ خلافت ایک انعام ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اعمال صالحہ کرنے والے مومنوں سے وعدہ فرمایا ہے۔اس نعمت کو اللہ تعالیٰ نے دائمی بنایا ہے مگر اس کے پانے اور محفوظ رکھنے کے لئے ایمان اور عمل صالح لازمی شرط ہے۔حضرت خلیہ اسیح الثانی الصلح الموعود رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے ابتدائی سالوں میں درس القرآن میں نظام خلافت کے اہم مسئلہ پر سیر حاصل روشنی ڈالی ہے اور ایک جگہ پر فرمایا: خلافت ، اسلام کے اہم مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے اور اسلام کبھی ترقی نہیں کر سکتا جب تک خلافت نہ ہو۔ہمیشہ خلفاء کے ذریعہ اسلام نے ترقی کی ہے اور آئندہ بھی اسی ذریعہ سے ترقی کرے گا۔اور ہمیشہ خدا تعالیٰ خلفاء مقرر کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی خدا تعالیٰ ہی خلفاء مقر ر کرے گا۔پس تم خوب یا درکھو کہ تمہاری ترقیات خلافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔اور جس دن