نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 133
۱۱۲ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَّلَا تَفَرَّقُواص (آل عمران : ۱۰۴) یعنی تم سب کے سب حبل اللہ، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور پراگندہ مت ہو۔حبل اللہ سے مراد قرآن کریم بھی ہے اور اسلام بھی۔تاہم حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب محدث دہلوی فرماتے ہیں:۔ہیں:۔حبل اللہ سے مراد صرف خلافت حقہ اسلامیہ ہے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ترجمہ:۔یعنی پیروی کرو میرے بعد ابوبکر اور عمر کی کیونکہ وہ دونوں خدا تعالیٰ کی وہ لمبی رسی ہیں کہ جس نے ان دونوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا اس نے ایک نہایت مضبوط قابل اعتماد چیز کو جو کبھی ٹوٹنے کی نہیں مضبوطی سے پکڑ لیا۔(ازالـة الــــفــاء عـن الخلفاء ص ۶۴ - ازشاہ ولی اللہ محدث دہلوی) حضرت مولانا نورالدین خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی حبل اللہ سے یہی مراد لی ہے۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں:۔تم ادب سیکھو کیونکہ یہی تمہارے لئے بابرکت راہ ہے تم اس حبل اللہ ( یعنی نعمت خلافت) کو مضبوط پکڑ لو۔یہ بھی خدا ہی کی رسی ہے جس نے تمہارے متفرق اجزاء کو اکٹھا کردیا ہے۔پس اسے مضبوط پکڑے رکھو۔(بدر قادیان یکم فروری ۱۹۱۲ء) حضرت خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۸۷ء بمقام مسجد فضل لندن میں قرآنی آیت کریمہ واعتصمو بحبل اللہ جمیعا کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: حبل اللہ سے مراد خدا تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہے اور اس کی اطاعت اور بیعت