نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 96 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 96

دوسرے جمہوریت میں صدر حکومت بہت سی باتوں میں لوگوں کے مشورہ کا پابند ہوتا ہے مگر اسلام میں خلیفہ کو مشورہ لینے کا حکم تو بے شک ہے مگر وہ اس مشورہ پر عمل کرنے کا پابند نہیں۔بلکہ مصلحت عامہ کے ماتحت اسے رد کر کے دوسرا طریق اختیار کرسکتا ہے۔دوسری طرف یہ نظام ڈکٹیٹر شپ سے بھی مختلف ہے کیونکہ اول تو ڈکٹیٹر شپ میں میعادی اور غیر میعادی کا سوال نہیں ہوتا اور دونوں صورتیں ممکن ہوتی ہیں۔دوسرے ڈکٹیٹر کو عموماً کلی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔حتی کہ وہ حسب ضرورت پرانے قانون کو بدل کر نیا قانون جاری کر سکتا ہے مگر نظام خلافت میں خلیفہ کے اختیارات بہر صورت شریعت اسلامی اور نبی متبوع کو ہدایات کی قیود کے اندر محدود ہیں۔اسی طرح ڈکٹیٹر مشورہ لینے کا پابند نہیں مگر خلیفہ کو مشورہ لینے کا حکم ہے۔الغرض خلافت کا نظام ایک نہایت ہی نادر اور عجیب وغریب نظام ہے جو اپنی روح میں تو جمہوریت کے قریب تر ہے مگر ظاہری صورت میں ڈکٹیٹر شپ سے زیادہ قریب ہے۔مگر وہ حقیقی فرق جو خلافت کو دنیا کے جملہ نظاموں سے بالکل جدا اور ممتاز کر دیتا ہے وہ اس کا دینی منصب ہے۔خلیفہ ایک انتظامی افسر ہی نہیں ہوتا بلکہ نبی کا قائم مقام ہونے کی وجہ سے اسے ایک روحانی مقام بھی حاصل ہوتا ہے۔وہ نبی کی جماعت کی روحانی اور دینی تربیت کا نگران ہوتا ہے اور لوگوں کے لئے اسے عملی نمونہ بننا پڑتا ہے اور اس کی سنت سند قرار پاتی ہے۔پس منصب خلافت کا یہ پہلو نہ صرف اسے دوسرے تمام نظاموں سے ممتاز کر دیتا ہے بلکہ اس قسم کے روحانی نظام میں میعادی تقر ر کا سوال ہی نہیں اٹھ سکتا۔(سلسلہ احمدیہ ص ۳۰۹،۳۰۸ / از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب۔شائع کردہ نظارت تالیف و تصنیف قادیان دسمبر ۱۹۳۹ء)