نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 95 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 95

حضرت خلیفہ مسیح الثانی خلیفہ کا مقام ومرتبہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔نبوت کے بعد سب سے بڑا عہدہ یہ (خلافت) ہے ایک شخص نے مجھے کہا کہ ہم کوشش کرتے ہیں تا گورنمنٹ آپ کو کوئی خطاب دے میں نے کہا یہ خطاب تو ایک معمولی بات ہے۔میں شہنشاہ عالم کے عہدہ کو بھی خلافت کے مقابلہ میں ادنی سمجھتا ہوں۔انوار العلوم جلد ۹ص ۴۲۵ ، از حضرت مصلح موعود شائع کردہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ ) خلیفہ کے اختیارات جیسا کہ قبل ازیں بیان کیا گیا ہے کہ خلیفہ نبی کا قائمقام ہوتا ہے اور اس کا کام نبی کے پروگراموں کو آگے بڑھانا ہے۔لہذا ظلی طور پر خلیفہ راشد کو وہ تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں جو کسی نبی کو حاصل ہوتے ہیں۔خلیفہ وقت کے اختیارات کی عملی صورت کو بیان کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے اپنی کتاب سلسلہ احمدیہ میں تحریر فرماتے ہیں:۔اسلام میں یہ نظام خلافت ایک نہایت عجیب و غریب بلکہ عدیم المثال نظام ہے۔یہ نظام موجود الوقت سیاسیات کی اصطلاح میں نہ تو پوری طرح جمہوریت کے نظام کے مطابق ہے اور نہ ہی اسے موجودہ زمانہ کی ڈکٹیٹر شپ کے نظام سے تشبیہ دے سکتے ہیں بلکہ یہ نظام ان دونوں کے بین بین ایک علیحدہ قسم کا نظام ہے۔جمہوریت کے نظام سے تو وہ اس لئے جدا ہے کہ جمہوریت میں صدر حکومت کا انتخاب میعادی ہوتا ہے مگر اسلام میں خلیفہ کا انتخاب میعادی نہیں بلکہ عمر بھر کے لئے ہوتا ہے۔