نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 94 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 94

خلافت کا مقام بیان کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد تحریر کرتے ہیں:۔اسی طرح نبوت کا مقام ، تعلیم و تربیت امت کی مختلف قوتوں سے مرکب تھا۔قرآن کریم نے ان کو تین اصولی قسموں میں بانٹ دیا ہے۔يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايته۔وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ (۶۲-۳) تلاوت آیات۔تزکیہ نفوس تعلیم کتاب و حکمت۔خلفاء راشدین ان تینوں منصبوں میں وجو د نبوت کے نائب تھے۔وہ منصب اجتہاد و قضاء شرح کے ساتھ قوت ارشاد و تزکیہ وتربیت بھی رکھتے تھے۔وہ ایک صاحب وحی کی طرح خدا کے کلام کی منادی کرتے ایک نبی کی طرح دلوں اور روحوں کو پا کی بخشتے اور ایک رسول کی طرح تعلیم کتاب اور حکمت وسنت سے امت کی تربیت و پرورش کرنے والے تھے۔وہ ایک ہی وجود میں ابوحنیفہ و شافعی بھی تھے اور جنید اور شبلی بھی نخعی و حماد بھی تھے اور ابن معین و ابن راہویہ بھی۔جسموں کا نظام بھی انہی کے ہاتھوں میں تھا دلوں کی حکمرانی بھی انہی کے قبضہ میں تھی۔یہی حقیقی اور کامل معنی منصب نبوت کی نیابت کے ہیں اور اسی لئے ان کا وجود اور ان کے اعمال بھی اعمال نبوت کا ایک آخری جزء تھے کہ عَلَيْكُمُ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِين۔اور اس لئے وَعَضُوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ کے حکم میں نہ صرف سنت عہد نبوت بلکہ خلافت راشدہ وخاصہ کی سنت بھی داخل ہوئی اور شرح اس ستر الہی کی بہت طولانی ہے یہاں محض اشارات مطلوب“۔مسئلہ خلافت از ابوالکلام آزاد ص ۲۰ تا ۲۱ مطبوعہ خیابان عرفان کچہری روڈ لاہور )