نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 93
وارث رسول شمار کریں۔نکتہ سوم خلیفہ راشد نبی حکمی ہے۔گو وہ فی الحقیقت پایۂ رسالت کو نہیں پہنچا لیکن منصب خلافت احکام انبیاء اللہ کے ساتھ منسوب ہوا۔“ منصب امامت ص ۱۲۲،۱۲۱ از شاه اسمعیل شہید مترجم حکیم محمد حسین نقوش پر لیس لا ہورا کتو بر ۱۹۹۴ء آئینہ ادب چوک مینارا نارکلی لاہور ) خلیفہ راشد اور باقی صلحاء میں نسبت بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔امام، رسول کے سعادت مند فرزند کی مانند ہے۔اکابر امت و بزرگان ملت ملازموں اور خدمتگاروں اور جاں نثار غلاموں کی مانند ہیں۔پس جس طرح تمام اکابر سلطنت و ارکان مملکت کے لئے شہزادہ والد قدر کی تعظیم ضروری اور اس سے توسل واجب ہے اور اس سے مقابلہ کرنا نمک حرامی کی علامت اور اس پر مفاخرت کا اظہار بدانجامی پر دلالت کرتا ہے۔ایسا ہی ہر صاحب کمال کے حضور میں تواضع اور تذلل سعادت دارین کا باعث ہے اور اس کے حضور میں اپنے علم و کمال کو کچھ سمجھ بیٹھنا دونوں جہان کی شقاوت ہے۔اس کے ساتھ یگانگت رکھنا رسول سے یگانگت ہے اور اس سے بیگانگی ہو تو خو د رسول سے بیگانگی ہے۔اسی طرح فرمایا کہ خلیفہ راشد سب کا مطاع ہے۔لکھتے ہیں کہ:۔خلیفہ راشد رسول کے فرزند ولی عہد کی بجائے اور دوسرے ائمہ دین بمنزلہ دوسرے بیٹوں کے۔پس جیسا کہ تمام فرزندوں کی سعادتمندی کا تقاضا یہی ہے کہ جس طرح وہ مراتب پاسداری وہی خدمت گزاری اپنے باپ کے حق میں ادالاتے ہیں۔وہ بتمامہ اپنے باپ کے جانشین بھائی سے بجالائیں۔اور اس سے اپنے باپ کی جگہ شمار کریں اور اس کے ساتھ مشارکت کا دم نہ بھریں۔منصب امامت از شاه اسمعیل شہید ص ۸۶ ۸۷۔اکتو بر ۱۹۹۴ء نقوش پریس لاہور )