نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 32 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 32

سے حضرت ھارون علیہ السلام ایک تابع نبی بھی ہوئے اور ایک حکمران نبی کے خلیفہ بھی۔اس جگہ حضرت ھارون علیہ السلام کی خلافت ، خلافت نبوت نہ تھی بلکہ خلافت انتظامی تھی۔مگر اس قسم کی خلافت بعض دفعہ خلافت انتظامی کے علاوہ خلافت نبوت بھی ہوتی ہے یعنی ایک سابق نبی کی امت کی درستگی اور اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ بعض دفعہ ایک اور نبی مبعوث فرماتا ہے جو پہلے نبی کی شریعت ہی کو جاری کرتا ہے۔کوئی نئی شریعت نہیں لاتا۔حالانکہ نبوت کے عہدہ پر وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا جاتا ہے۔جس قدر نبیاء حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں آئے سب اسی قسم کے خلفاء تھے۔جیسا کہ سورۃ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتَحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاء۔(مائده: ۴۵) یعنی ہم نے تو رات کو یقیناً ہدایت اور نور سے بھر پورا تارا تھا۔اس کے ذریعہ سے انبیاء جو ہمارے فرمانبردار تھے اور عارف اور علماء بہ سبب اس کے کہ ان سے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی حفاظت چاہی گئی تھی۔اور وہ اس پر نگران تھے۔یہودیوں کے لئے فیصلہ کیا کرتے تھے۔ا۔اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کئی انبیاء اور کئی غیر نبی جن کو اس آیت میں ربانی اور احبار کہا گیا ہے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے قیام کے لئے یا دوسرے لفظوں میں ان کے خلیفہ کی حیثیت سے بنی اسرائیل میں آتے رہے۔۲۔احادیث میں حضرت امام مہدی کے لئے جو هَذَا خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِى یعنی