نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 31
كُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِن بَعْدِ عَادٍ۔(اعراف: ۷۵ ) یاد کرو جب تم کو اللہ تعالیٰ نے عاد اولی کی تباہی کے بعد ان کا جانشین بنایا اور حکومت تمہارے ہاتھ میں آگئی۔اور اسی طرح سورۃ مائدہ آیت نمبر ۲۱ کے مطابق قوم موسیٰ میں نبی بھی مقرر کئے تھے اور بادشاہ بھی۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ یہود کو ہم نے دو طرح خلیفہ بنایا۔اِذْ جَعَلَ فِيكُمُ کے تحت انہیں خلافت نبوت دی اور جَعَلَكُمْ مَلُوكًا کے ما تحت انہیں خلافت ملوکیت دی۔پس ہر قوم جو پہلی قوم کی تباہی پر اس کی جگہ لیتی ہے۔ان معنوں میں بھی خلیفہ کا لفظ قرآن مجید میں متعدد بار استعمال ہوا ہے۔لہذا قرآن کریم کے مطابق خلافت کی دوسری قسم خلافت قومی ہے جس کے تحت ہر قوم جو پہلی قوم کی جگہ لیتی ہے وہ قرآنی محاورہ کے مطابق اس قوم کی خلیفہ کہلاتی ہے۔۳۔خلافت علی منہاج النبوت قرآنی محاورہ کے مطابق تیسری قسم کی خلافت وہ ہے جس کے مطابق نبی کے جانشین بھی خلیفہ کہلاتے ہیں جو اس کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں اور نبی کے ماننے والوں میں اتحاد و تنظیم قائم رکھنے والے ہوں۔خواہ وہ نبی ہوں یا غیر نبی جیسا کہ آیت استخلاف (سورۃ نور آیت ۵۶) سے ظاہر ہے۔اسی طرح سورۃ اعراف آیت نمبر ۱۴۳ میں ہے۔وَقَالَ مُوسَى لَا خِيُهِ هَرُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحُ وَلَا تَتَّبِعُ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ۔اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میری قوم میں میری قائمقامی کر اور اصلاح کر اور مفسدوں کی راہ کی پیروی نہ کر۔پس اس آیت کریمہ کی رو