حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 49 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 49

حوادث طبیعی یا عذاب الہی اسلامی دنیا شدید اخلاقی انحطاط کا شکار ہو چکی تھی تو دوسری طرف عیسائی دنیا میں بھی حد سے زیادہ فسق و فجور پھیل چکا تھا۔اس زمانہ کے کلیسیا کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ Monasteries یعنی راہب خانے جہالت اور او باشی کا اڈہ بنے ہوئے تھے اور ظلم اور سفاکی کا یہ عالم تھا کہ مذہبی اختلافات کی بنا پر کلیسیا کی اجازت ہی سے نہیں بلکہ کلیسیا کے ایما اور حکم پر بے دریغ ہزاروں انسانوں کو زندہ جلا دیا جاتا تھا۔عیسائیت پر پہلے تین سو سال میں اجتماعی طور پر اتنے ظلم نہ ہوئے ہوں گے جتنے عیسائیت نے اپنی تاریکی کی صدیوں میں سے ہر صدی میں غیروں اور اپنوں پر توڑے۔طاعون کا اس زمانہ میں اس علاقہ میں پھوٹنا اور اس شدت سے پھوٹنا ان واقعات کو دیکھتے ہوئے ہر گز تعجب انگیز نہیں رہتا۔اہل یورپ کی سفاکی کا یہ عالم تھا کہ خود عیسائی مورخین کے بیان کے مطابق بعض شہروں میں ہزار ہا یہود کو محض اس لیے زندہ آگ میں جلا دیا گیا کہ ان پر یہ الزام تھا کہ طاعون ان کی وجہ سے پھوٹی۔چنانچہ مشہور مؤرخ ایچ۔اے۔ایل فشر اس دور کی جہالت اور سفاکی کی ایک مثال دیتے ہوئے لکھتا ہے:۔"Among the moral results of this disaster the most shameful was a series of attacks upon the Jewish population, who at Mainze and other German-speaking towns were burned in their hundreds or thousands by an infuriated mob in the belief that the plague was a malignant device of the Semitic race for the confusion of the Catholic Creed۔" (A History of Europe by H۔A۔L Fisher, p۔319) ترجمہ : اس آفت کے اخلاقی نتائج میں سے سب سے زیادہ قابل شرم یہ تھا کہ اس کے نتیجے میں یہود آبادیوں پر مینز اور بعض دوسرے جرمن بولنے والے قصبات میں حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔سینکڑوں، ہزاروں یہودیوں کو محض اس تو ہم کے نتیجہ میں نذرِ آتش کیا جاتا کہ کیتھولک کلیسیا میں بد اعتقادی پیدا کرنے کے لیے طاعون کی وبا یہودی نسل کے ماتھوں میں ایک ہولناک آلہ کار کی حیثیت رکھتی ہے۔بہر حال عیسائی دنیا کا یہ دور ایک انتہائی کریہہ المنظر دور ہے۔پس اگر ظلم و ستم کا کوئی دور 49