حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 50
حوادث طبیعی یا عذاب الہی بھی عذاب الہی کو دعوت دے سکتا ہے تو بلاشبہ یہ وہ دور ہے جو پکار پکار کر عذاب الہی کو دعوت دے رہا تھا۔اگر ہمارا یہ نظریہ درست ہے کہ ظلم و ستم کا اولین ذمہ دار کلیسیا تھا تو طبعی طور پر ہمیں یہ بھی توقع رکھنی چاہیے کہ طاعون کا اولین شکار بھی کلیسیا کو ہی ہونا چاہیے۔جب ہم تاریخ پر اس پہلو سے نظر ڈالتے ہیں تو بعینہ وہی منظر نظر آتا ہے۔سب شہروں اور بستیوں اور مقامات سے بڑھ کر طاعون کو اپنے حملوں کے لیے اگر کوئی جگہ مرغوب تھی تو وہ عیسائی راہب خانے ہی تھے۔اس امر کا ذکر کرتے ہوئے ایچ۔اے۔ایل فشر اپنی مشہور تاریخ یورپ میں رقم طراز ہے: "Rather it would be true to say that the sudden destruction of life (which was specially evident in the monasteries) had set in motion a series of small shifting, which, in their accumulated and accumulating effects, amounted to a revolution۔" (A History of Europe by H۔A۔L Fisher, p۔320) ترجمہ: غالباً یہ کہنا درست ہو گا کہ زندگی کی اچانک بیخ کنی نے (جو بالخصوص عیسائی راہب خانوں میں نمایاں طور پر نظر آتی تھی) ایک ایسا محرکات کا سلسلہ شروع کر دیا تھا جس نے مجموعی حیثیت سے وہ نتائج پیدا کیے جنہیں انقلاب کا نام دیا جاسکتا ہے۔طاعون نے نہ صرف اپنی تباہ کاری کے وقت monasteries (راہب خانوں) کو بالخصوص شکار بنایا بلکہ اس کے بعد کے اثرات بھی کلیسیا کے لیے بڑے مہلک ثابت ہوئے اور کلیسیا کی طاقت کو توڑنے اور ایک نئی طرزِ فکر پیدا کرنے میں اس طاعون نے ایک اہم کردار ادا کیا کلیسیا پر اس کے براہِ راست اثر کا ذکر کرتے ہوئے یہی مورخ انگلستان کی مثال پیش کرتا ہے اور لکھتا ہے۔"In the monasteries a marked decline in literary activity and discipline; in the impoverished country parishes empty rectories and absentee priest"۔(A History of Europe by H۔A۔L۔Fisher, p۔320) 50