حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 48

حوادث طبیعی یا عذاب الہی میں دیکھا۔چوتھی صدی عیسائیت کے غلبہ کی صدی ہے جس کے ظاہر ہوتے ہی طاعون جس پر اسرار طریق پر ظاہر ہوئی تھی اسی پر اسرار طریق پر غائب ہو گئی یہاں تک کہ پھر پورے تین سو سال تک کہیں نظر نہ آئی۔چھٹی صدی عیسوی کلیسا کے اخلاقی لحاظ سے تباہ و برباد ہونے کی صدی ہے۔یہ وہ زمانہ ہے جبکہ تمام عیسائی دنیا میں فسق و فجور پھیل چکا تھا اور وہ جو کبھی مظلوم تھے سخت ظالم اور سفاک ہو چکے تھے۔تب وہی طاعون جو کبھی ان کے ادنی خادم کی حیثیت سے ان کی تائید میں ظاہر ہوا کرتی تھی اس مرتبہ انہیں سزا دینے کے لیے آئی۔اور قابل غور امر یہ ہے کہ طاعون کا یہ حملہ اپنی وسعت میں کم و بیش ساری عیسائی دنیا کو گھیرے ہوئے تھا۔یہ گویا اس امر کا اعلان تھا کہ عیسائی لوگ اب تائید الہی سے محروم ہو گئے ہیں۔چنانچہ یہ حقیقت بہت معنی خیز اور مسلمان کے لیے ایمان افروز ہے کہ طاعون کا یہ حملہ بعینہ اس زمانہ میں ہوا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عرب میں ولادت ہوئی۔طاعون کے اس حملہ نے پچاس سال تک یعنی کم و بیش ظہور نبوت تک عیسائی دنیا کا پیچھا نہیں چھوڑا۔گویا کہ وہ زبان حال سے یہ اعلان کر رہی تھی کہ اب تم الہی نصرت کے حق دار نہیں رہے۔پس ہمارا یہ کہنا کہ طاعون کی یہ وبا بھی ایک غیر معمولی عذاب کی حیثیت رکھتی تھی جو سزا کے طور پر عیسائی دنیا پر نازل ہوئی محض ایک خوش اعتقادی نہیں بلکہ عین قرین قیاس ہے اور واقعات کی انگلی اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔اس طاعون کی ایک تعجب انگیز حرکت یہ تھی کہ اس نے شام اور فلسطین کو تو خوب اپنی لپیٹ میں لیا اور وہاں سے نکل کر مصر میں جا پہنچی اور پھر سمندر پار یورپ کے مختلف ممالک میں تہلکہ مچا دیا لیکن سر زمین حجاز کا رخ نہیں کیا۔گویا اس کے سامنے ایک سد سکندری کھڑی تھی حالانکہ عام اصول کے مطابق مکہ جو شام سے جنوب کی طرف جانے والی قدیم تجارتی شاہراہ پر واقع تھا تجارتی قافلوں کے ذریعہ وہاں تک اس کے اثرات پہنچنے زیادہ قریب قیاس تھے مگر یہ متعدی مرض کسی خاص قدرت الہی کے تحت مسخر ہو کر محض عیسائی دنیا تک محدود رہی۔اس کے بعد طاعون آٹھ سو سال تک اس دنیا سے غائب رہی اور پھر اس نے ۱۳۷۰ء میں ظاہر ہو کر ۱۳۷۵ء تک دنیا کے ایک وسیع تر خطہ میں جولانی دکھائی۔یہ وہ دور ہے کہ ایک طرف 48