حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 64
حوادث طبعی یا عذاب الہی مختلف ملکوں میں پھیلاؤ سے تعلق رکھتے ہیں۔۱۸۸۰ء میں صرف ایک ملک میں طاعون ظاہر ہوا۔۱۸۸۱ء میں تین ممالک، ۱۸۸۲ء میں دو ممالک، ۱۸۸۳ء میں ایک ملک، ۱۸۸۴ء میں پھر دو ممالک ۸۸-۸۷۔۸۶-۱۸۸۵ء میں صرف ایک ملک میں ،۱۸۸۹ء میں پھر یہ بڑھنا شروع ہوا اور ۹۱-۹۰-۱۸۸۹ء میں تین ممالک میں ظاہر ہوا۔۱۸۹۲ء میں چار ممالک، ۹۴-۱۸۹۳ء میں ایک دم پھیل کر نو ممالک پر قابض ہو گیا۔۱۸۹۵ء میں دو ممالک اور ۹۷-۱۸۹۶ء میں چھ ممالک تک محدود رہا۔ان اعداد کے مطالعہ سے صاف ظاہر ہے کہ طاعون کی انتہائی چوٹی ۱۸۹۳ء میں قائم ہوئی جس کے بعد مسلسل تین سال تک اس کا دائرہ عمل محدود رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے طاعون کے عذاب الہی کی صورت میں پھیلنے کی ۱۸۹۸ء میں خبر دی اور ۱۸۹۸ء میں طاعون اچانک پھر پھیلنا شروع ہوا اور چھ ممالک کی بجائے آٹھ ممالک پر حملہ آور ہوا۔۱۸۹۹ء میں اکیس ممالک، ۱۹۰۰ء میں ۲۶ ممالک، ۱۹۰۱ء میں ۲۷ ممالک اور ۱۹۰۲ء میں ۲۸ ممالک پر مسلط ہو گیا۔اس نقشہ کو دیکھ کر طبیعت پر یہ اثر پڑتا ہے کہ اس الہی تنبیہ کے بعد جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ بنی نوع انسان کو اس آنے والی آفت سے متنبہ کر دیا گیا تو ساتھ ہی اس بلا کی زنجیریں کھول دی گئیں اور یہ اس تیز رفتاری سے آگے بڑھی گویا پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ہمیں افسوس ہے کہ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا طاعون کے پھیلاؤ کا صرف ۱۹۰۲ء تک ذکر کرتا ہے اس لیے ہم مکمل نقشہ پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ہاں جہاں تک طاعون کے اثرات کا تعلق ہے یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ۱۹۰۶ء تک طاعون کے نتیجہ میں رونما ہونے والی اموات کے اعداد و شمار محفوظ کر دیئے گئے۔اس نقشے پر بھی نظر ڈال کر دیکھیے تو پیشگوئی سے قبل اور پیشگوئی کے بعد کے اعداد و شمار میں نمایاں فرق نظر آئے گا۔اس نقشہ کے مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ ہندوستان یعنی وہ ملک جس میں وقت کا امام ظاہر ہوا تھا اور جس نے آفت سے بالخصوص اس ملک کو متنبہ کیا طاعون کی سب سے زیادہ خوفناک آماجگاہ بن گیا۔۱۸۹۶ء ' میں یعنی پیشگوئی سے قبل کے سال ۲۲۱۹ اموات طاعون کی وبا 1 گذشتہ ایڈیشن میں سہو کا تب سے ۱۸۹۹ء درج ہو گیا تھا جس کو ” الفرقان “ اپریل ۱۹۷۷ء کے شمارہ کے مطابق ۱۸۹۶ء کر دیا گیا ہے۔پبلشر 64