حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 65 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 65

حوادث طبیعی یا عذاب الہی کے نتیجہ میں ہوئیں لیکن جب پیش گوئی کی گئی یہ اموات اچانک بڑھ کر ۴۷۹۷۶ تک پہنچ گئیں۔اعدادو شمار حسب ذیل ہیں جو ہمارے بیان پر شاہد ناطق ہیں :- تعداد اموات سال ١٨٩٦ء ۱۸۹۷ء ۱۸۹۸ء ١٨٩٩ء ١٩٠٠ء 1901ء ١٩٠٢ء ١٩٠٣ء ١٩٠٤ء ۱۹۰۵ء ١٩٠٦ء ۲۲۱۹ ۴۷۹۷۶ ۸۹۲۶۵ ۱۰۲۳۶۹ ۷۳۵۷۶ ۲۳۶۴۳۳ ۴۵۲۶۵۵ ۶۸۴۴۴۵ ۹۳۸۰۱۰ ۹۴۰۸۲۱ ۳۰۰۳۵۵ مندرجہ بالا نقشہ میں صرف ۱۹۰۰ء کا سال ایسا ہے جس میں گزشتہ سال سے اموات میں کچھ کمی دکھائی دیتی ہے۔باقی تمام سالوں میں ۱۹۰۵ء تک مسلسل اموات کی تعداد ہولناک طریق پر بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے جو بالآخر ۱۹۰۶ء میں پھر گرنا شروع ہو جاتی ہے۔اس کے بعد طاعون رفتہ رفتہ غائب ہوتے ہوتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال تک تقریباً معدوم ہو چکی ہے۔طاعون کے پھیلاؤ اور اموات کی تعداد کے سالانہ اعداد و شمار ذہن کو اس آیت کے مضمون کی طرف بھی منتقل کر دیتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ فرعون کی قوم پر نازل ہونے والے عذابوں کے ذکر میں عذاب الہی کی ایک علامت یہ بھی بیان فرماتا ہے کہ اگلے جھٹکے پچھلے جھٹکوں سے شدید تر ہوتے ہیں جیسا کہ فرمایا:- 65