حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 63 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 63

حوادث طبعی یا عذاب الہی ہیں۔ایک طرف نادان مخالفوں کو اپنے دوستوں پر کتوں کی طرح مسلط کر دیتا ہے اور ایک طرف فرشتوں کو حکم کرتا ہے کہ ان کی خدمت کریں۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱-۳) مندرجہ بالا اقتباسات میں جو دعاوی کیے گئے ہیں ان کی رو سے طاعون کی اس وبا میں حسب ذیل خصوصیات ہونی چاہیے تھیں جو اسے عام وباؤں سے ممتاز کر دیں اور قطعی طور پر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ کوئی عام و با نہیں بلکہ عذاب الہی کے قبیل سے تعلق رکھنے والا ایک عظیم الشان عذاب ہے۔ا۔پیشگوئی کے بعد اس وبا کو غیر معمولی طور پر بڑھنا چاہئے تھا۔۲۔پنجاب کے دیگر قصبات کے بر عکس قادیان کو اس وبا کی غیر معمولی شدت سے محفوظ رہنا چاہئے۔عموماً جماعت احمدیہ کے افراد اس حملہ سے اس حد تک نمایاں طور پر محفوظ رہنے چاہئیں تھے تا یہ بات لوگوں کی نظر میں عجیب ٹھہرے۔۴۔خصوصاً قادیان کا وہ حصہ اس وبا سے بالکل محفوظ رہنا چاہئے تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رہائش گاہ تھا۔ہر وہ شخص جو اس میں رہائش پذیر تھا اس کے اثر سے محفوظ و مامون ہونا چاہئے تھا۔۵۔اس طاعون کے نتیجہ میں لوگوں نے بکثرت آپ پر ایمان لانا تھا اور جب تک ایسا نہ ہو طاعون نے ملک کا پیچھانہ چھوڑنا تھا۔جب ہم تاریخی حقائق پر نظر ڈالتے ہیں تو بڑی حیرت کے ساتھ اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ مندرجہ بالا دعاوی میں سے ہر ایک بڑی شان کے ساتھ سچا ثابت ہوا۔سب سے پہلے ہم وہ اعداد و شمار پیش کرتے ہیں جن سے یہ ثابت ہو گا کہ طاعون کی پیشگوئی سے قبل اور طاعون کی پیش گوئی کے بعد کے حالات میں ایک ایسی نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی جو کسی انسان کے بس کی بات نہ تھی۔ذیل میں ہم طاعون کی پیش گوئی سے قبل کے اعدادو شمار پیش کرتے ہیں جو طاعون کے 63