حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 20
حوادث طبیعی یا عذاب الہی اس سائے کی طرف جاؤ۔جس کے تین پہلو ہیں۔نہ تو وہ سایہ دیتا ہے اور نہ تپش سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ وہ اتنے اونچے شعلے پھینکتا ہے جو قلعے کے برابر ہوتے ہیں۔اتنے اونچے کہ گویا وہ بڑے بڑے جہازوں کے باندھنے والے زر د ر سے معلوم ہوتے ہیں اس دن جھٹلانے والوں پر تباہی آئے گی۔اس آیت میں جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ زمانہ حاضرہ کی جنگوں سے بہت ملتا جلتا ہے۔یہ وہ زمانہ ہے جس میں پہلی مرتبہ جنگ کا مہیب سایہ تین نمایاں شعبے رکھتا ہے۔فضائی، بری اور بحری۔اور یہ تینوں شعبے آگ برسانے والے ہیں۔اٹھا تَرْمِي بِشَرَرٍ گالقصر میں قلعوں کی طرح جو بلند شعلے پھینکنے کا منظر ہے وہ بعینہ جدید آلات حرب کے آگ اگلنے کی تصویر ہے۔اسی طرح سورۃ الھمزۃ میں جس آگ سے ڈرایا گیا ہے اس کا بھی عہد حاضر سے تعلق معلوم ہو تا ہے۔فرمایا: وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ أُمَزَةٍ - الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدِّدَهُ - يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ كَلَّا لَيُنَبَذَنَ فِي الْحُطَمَةِ - وَمَا أَدْرَكَ مَا الحُطَمَةُ - نَارُ اللَّهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ - اِثْهَا عَلَيْهِمْ مُؤْصَدَةٌ فِي عَمَدٍ مَدَّ دَةٍ (سورة الهمزة: ٢-١٠) ترجمہ : ہر غیبت کرنے والے اور عیب چینی کرنے والے کے لیے عذاب ہے۔جو مال کو جمع کرتا ہے اور اس کو شمار کرتا رہتا ہے وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کے نام کو باقی رکھے گا۔ہر گز ایسا نہیں (جیسا کہ اس کا خیال ہے بلکہ ) وہ یقیناً اپنے مال سمیت حطمہ میں پھینکا جائے گا اور (اے مخاطب !) تجھے کیا معلوم ہے کہ یہ حطمہ کیا شے ہے؟ یہ (حطمہ) اللہ کی خوب بھڑ کائی ہوئی آگ ہے جو دلوں کے اندر تک جاپہنچے گی پھر وہ آگ سب طرف سے بند کر دی جائے گی۔تاکہ اس کی گرمی ان کو اور بھی زیادہ تکلیف دہ محسوس ہو اور وہ لوگ لمبے ستونوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہوں گے۔یہاں کسی فرد کا نہیں بلکہ ایک قوم کا ذکر معلوم ہوتا ہے کیونکہ فرد واحد خواہ کیسا ہی امیر کیوں نہ ہو وہ کبھی بھی یہ وہم نہیں کر سکتا کہ اس کا مال اس کو ہمیشہ کی زندگی عطا کر سکتا ہے۔البتہ 20