حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 21
حوادث طبیعی یا عذاب الہی امیر قومیں جن کو دولت کا غلبہ نصیب ہو جائے۔دولت کے بل بوتے پر ضرور اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جایا کرتی ہیں کہ ان کا غلبہ ہمیشہ باقی رہے گا۔ان کو جس عذاب سے خبر دار کیا گیا ہے وہ بھی ایسا آگ کا عذاب ہے۔جو اپنی شدت کی وجہ سے دلوں پر جھپٹتا ہے یعنی آن واحد میں دلوں سے زندگی اچک لینے والا ہے۔آج کل کے ایٹمی ہتھیار بالکل اس نقشہ پر پورا اتر رہے ہیں اور ایٹم بم کے پھٹنے سے پہلے اس کے مرکز کا بھینچ کر لمبا ہو جانا نیز حطمہ کے معنی ریزہ ریزہ کی ہوئی شئی یعنی باریک ترین ریزے یہ دونوں امور بھی اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔بہر حال جس آگ کے عذاب کی خبر دی گئی ہے وہ اسی دنیا سے تعلق رکھتا ہے اور اسی کے نتیجہ میں اس متکبر ، مال و دولت کے نشہ میں سر شار قوم کی تباہی معلوم ہوتی ہے جو اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے خواب دیکھ رہی ہو۔مذکورہ بالا آگ کے عذاب کی پیش خبریوں کو اگر پہلے مضمون کے ساتھ ملالیا جائے تو معلوم ہو تاکہ چاروں عناصر یعنی۔پانی، مٹی، ہوا اور آگ اللہ تعالیٰ کے تصرف کے تحت عذاب کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں اور یہی وہ چاروں عناصر ہیں جو انعام کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔پس عذاب کے لیے طبعی قوانین کا مسخر ہونا ہر گز کسی اچنبے کی بات نہیں۔لازماً ہر قسم کے نقصان اور فائدے انہی طبعی عناصر کے ساتھ وابستہ ہیں۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ دنیا میں ہمیشہ ہر زمانہ میں ایسے تغیرات ہوتے ہی رہتے ہیں۔جن کے نتیجہ میں آگ ، پانی ، ہوا اور مٹی کبھی انسان کو فائدہ دے رہے ہوتے ہیں۔کبھی نقصان، کبھی تنگی کے سامان پیدا کرتے ہیں۔کبھی آسائش کے تو کیوں بلاوجہ اس کو غیر معمولی تصرف الہی قرار دیا جائے اور کیوں بعض حالات کو بعض اوقات عام طبعی تغییرات قرار دیا جائے اور بعض اوقات انہیں خاص تصرفات کا نام دیا جائے۔جب سے دنیا بنی ہے ایسا ہو تا چلا آیا ہے یہ کوئی نیا سوال نہیں۔اور جدید زمانے کے انسان نے اس اعتراض کے ذریعہ ایسی نئی بات پیدا نہیں کی جو پہلے انسانوں کو نہ سو جبھی ہو۔قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ بعینہ یہی اعتراض انبیاء پر کیا گیا۔جیسا کہ فرمایا: وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَّبِيَّ إِلَّا أَخَذْنَآ أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ 21