حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 19 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 19

حوادث طبیعی یا عذاب الہی متعلق قرآن کریم کی یہ خبر کہ ان کے لیے مقدر کیا گیا ہے کہ قیامت تک ان پر ایسی قومیں مسلط رہیں جو انہیں طرح طرح کے عذاب دیں۔وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ مَنْ يَسُومُهُمْ سُوءٍ الْعَذَابِ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُوْرٌ رَّحِيمٌ (سورۃ الاعراف: ۱۶۸) طبعی ترجمہ : اور یاد کر جب تیرے رب نے اعلان کر دیا کہ ان (یہود) پر قیامت کے دن تک ایسے لوگ مقرر کر دے گا جو انہیں تکلیف دہ عذاب دیتے چلے جائیں گے پھر کیا ایسا ہوا یا نہیں ہوا؟) تیر ارب یقیناً بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔عذاب کی جتنی قسمیں اوپر بیان ہوئی ہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ چار معروف عناصر میں سے ان کا تعلق تین عناصر سے نظر آتا ہے لیکن چوتھے عنصر کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔یہ سب عذاب کی قسمیں۔مٹی، پانی یا ہوا سے تعلق رکھتی ہیں یا ان جانوروں سے تعلق رکھتی ہیں جو مٹی، پانی یا ہوا میں بسنے والے ہیں لیکن چوتھے عنصر یعنی آگ کے عذاب کا گذشتہ قوموں کے تعلق میں کہیں ذکر نہیں ملتا۔یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ آگ کے ابتلاء سے نیک بندوں کی آزمائش کی گئی جیسا کہ حضرت ابراہیم کے واقعہ میں اور سورۃ بروج کے بیان کردہ مضمون سے واضح ہے۔لیکن جہاں تک آگ کے عذاب کا تعلق ہے آگ کے عذاب کا اس دنیا میں گزری ہوئی امتوں کے بیان میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔لیکن جہاں تک قرآن کریم کی پیشگوئیوں کا تعلق ہے۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلسل انکار کے نتیجہ میں قوموں کو آئندہ آگ کا عذاب بھی دیا جانا مقدر تھا۔قرآن کریم کی مختلف آیات میں اس کا اشارہ یاصر احتاذکر ہے۔جیسا کہ فرمایا: انْطَلِقُوا إِلَى ظِلَّ ذِى ثَلَتِ شُعَبٍ لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّهَبِ اثْهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ كَأَنَّهُ جِمَلَتْ صُفْرُ - وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ۔(سورة المرسلات: ۳۱-۳۵) ترجمہ : (ہم ان سے کہیں گے ) جس چیز کو تم جھٹلاتے تھے اسی کی طرف جاؤ یعنی 19