حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 79
حوادث طبیعی یا عذاب الہی تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه ۴۸۵) بھگت رام جس کے لڑکے کے گذر جانے کا اوپر ذکر کیا ہے بیمار ہو گیا اور چھ روز بیمار رہ کر ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گیا۔یہی وجہ ہے کہ اب کے ہم گورو کل میں بھی نہیں جاسکتے اور اخبار بھی دو ہفتہ سے بند ہے اور ابھی اپریل کا کوئی پرچہ نکلنے کی آشا نہیں ہے کیونکہ لالہ اچھر چند جی تو اول کئی ہفتے اس صدمے سے کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔“ قادیان میں طاعون نے کس حد تک اور کہاں کہاں دخل دیا اس کی کچھ کیفیت بیان ہو چکی ہے۔یہ بھی گذر چکا ہے کہ دار مسیح میں کسی بسنے والے ذی روح کی جان لینے پر اسے قدرت نصیب نہ ہو سکی۔یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جس کی تردید کی شدید ترین معاند احمدیت کو بھی توفیق نصیب نہ ہو سکی۔یہ خدا کا ایسا اٹل وعدہ تھا جس کی تفاصیل پر نظر ڈالنے سے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔اس تمام عرصہ میں بیماری کے صرف دو ایسے واقعات ہوئے جن پر طاعون کا شبہ گذرا۔اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ وہ طاعون تھا بھی کہ نہیں۔لیکن اگر دوسری بیماری بھی تھی تو اس کے نتیجہ میں موت واقع ہونے پر دشمن کو تضحیک کا موقعہ ضرور مل سکتا تھا اور پیشگوئی کی صداقت پر شک و ابہام کا پردہ پڑ سکتا تھا لہذا اللہ تعالی کی غیرت نے یہ بھی پسند نہ کیا کہ مسیح کی چار دیواری میں بسنے والا کوئی متنفس طاعون کے شبہ میں بھی مارا جائے۔یہ دو واقعات حسب ذیل ہیں :- ا۔ایک دفعہ طاعون کے زور کے دنوں میں جب قادیان میں بھی طاعون تھی مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کو سخت بخار ہو گیا اور ان کو ظن غالب ہو گیا کہ یہ طاعون ہے اور انہوں نے مرنے والوں کی طرح وصیت کر دی اور مفتی محمد صادق صاحب کو سمجھا دیا۔اور وہ میرے گھر کے ایک حصہ میں رہتے تھے جس گھر کی نسبت یہ الہام ہے اِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ في الدار تب میں ان کی عیادت کے لئے گیا۔ان کو پریشان اور گھبراہٹ میں پاکر میں نے ان کو کہا کہ اگر آپ کو طاعون ہو گئی تو پھر میں جھوٹا اور میرا دعویٰ الہام غلط ہے۔یہ کہہ کر میں نے ان کی نبض پر ہاتھ لگایا۔یہ عجیب نمونہ قدرت الہی دیکھا کہ ہاتھ لگنے کے ساتھ ہی ایسا بدن سرد 79