حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 80

حوادث طبیعی یا عذاب الہی ( تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه ۲۱۸) پایا کہ تپ کا نام و نشان نہ تھا۔“ ۲۔میں نے کئی دفعہ ایسی منذر خواہیں دیکھیں جن میں صریح طور پر یہ بتلایا گیا تھا کہ میر ناصر نواب جو میرے خسر ہیں ان کے عیال کے متعلق کوئی مصیبت آنے والی ہے۔۔۔۔۔میں دعا میں لگ گیا اور وہ اتفاقاً مع اپنے بیٹے اسحاق اور اپنے گھر کے لوگوں کے لاہور جانے کو تھے میں نے ان کو یہ خواہیں سنا دیں اور لاہور جانے سے روک دیا۔اور انہوں نے کہا کہ میں آپ کی اجازت کے بغیر ہر گز نہیں جاؤں گا۔جب دوسرے دن کی صبح ہوئی تو میر صاحب کے بیٹے اسحاق کو تیز تپ چڑھ گیا اور سخت گھبراہٹ شروع ہو گئی اور دونوں طرف ٹن ران میں گلٹیاں نکل آئیں اور یقین ہو گیا کہ طاعون ہے کیونکہ اس ضلع کے بعض مواضع میں طاعون پھوٹ ری ہے۔تب معلوم ہوا کہ مذکورہ بالا خوابوں کی تعبیر یہی تھی اور دل میں سخت کم پیدا ہوا اور میں نے میر صاحب کے گھر کے لوگوں کو کہہ دیا کہ میں تو دعا کرتا ہوں آپ بہت توبہ اور استغفار کریں کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ نے دشمن کو اپنے گھر میں بلایا ہے اور یہ کسی لغزش کی طرف اشارہ ہے۔اور اگر چہ میں جانتا تھا کہ موت فوت قدیم سے ایک قانون قدرت ہے لیکن یہ خیال آیا کہ اگر خدانخواستہ ہمارے گھر میں کوئی طاعون سے مر گیا تو ہماری تکذیب میں شور قیامت برپا ہو جائے گا اور پھر گو میں ہزار نشان بھی پیش کروں تب بھی اس اعتراض کے مقابل پر کچھ بھی ان کا اثر نہیں ہو گا کیونکہ میں صدہا مر تبہ لکھ چکا ہوں اور ہزار ہالو گوں میں بیان کر چکا ہوں کہ ہمارے گھر کے تمام لوگ طاعون کی موت سے بچے رہیں گے۔غرض اس وقت جو کچھ میرے دل کی حالت تھی میں بیان نہیں کر سکتا۔میں فی الفور دعا میں مشغول ہو گیا اور بعد دعا کے عجیب نظارہ قدرت دیکھا کہ دو تین گھنٹہ میں خارقِ عادت کے طور پر اسحاق کا تپ اتر گیا اور گلٹیوں کا نام و نشان بھی نہ رہا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور نہ صرف اس قدر بلکہ 80