حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 78
حوادث طبیعی یا عذاب الہی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔چنانچہ سب سے پہلے سو مراج اور بھگت رام کی نرینہ اولاد لقمہ طاعون ہوئی پھر بھگت رام اور اچھر چند چل بسے۔باقی رہا سو مراج سو وہ بھی اپنے گھر ، اپنے جگری دوستوں کی تباہی و بربادی کا نظارہ دیکھنے کے بعد سخت بیمار ہو گیا۔اس نے گھبر اگر حکیم مولوی عبید اللہ صاحب بسمل کو کہلا بھیجا کہ میں بیمار ہوں آپ مہربانی فرما کر علاج کریں۔مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک عریضہ لکھ کر پوچھا کہ سومراج نے مجھ سے علاج کرنے کے لئے درخواست کی ہے۔حضور کا اس بارہ میں کیا ارشاد ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جواب میں فرمایا ” آپ علاج ضرور کریں کیونکہ انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے مگر میں آپ کو بتائے دیتا ہوں کہ یہ شخص بچے گا نہیں۔“ چنانچہ حکیم عمل صاحب کے ہمدردانہ رویہ کے باوجود سومراج کی حالت بد تر ہوتی گئی اور وہ آخر دوسرے روز چار بجے کے قریب اپنے ساتھیوں سے جاملا۔“ ( تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه ۴۸۴-۴۸۵) بلا شبہ یہ واقعہ بہت ہی عبرتناک اور سبق آموز ہے مگر عبرت اور حسرت اور سخت نامرادی کی یہ داستان نامکمل رہے گی اگر ہم پنڈت سو مراج کے اس آخری خط کا ذکر نہ کریں جو اس نے اخبار پر کاش کے نام لکھا۔پیشتر اس کے کہ وہ شائع ہو تا عذاب الہی نے خود اسے بھی لقمہ اجل بنادیا۔( یہ چٹھی) ٹھیک اسی دن شائع ہوئی جس روز پنڈت سو مراج اس دنیا سے رخصت ہو الکھتا ہے کہ :۔یکا یک مہاشہ اچھر چند کی استری اور عزیز بھگت رام بر اور لالہ اچھر چند کا لڑکا بیمار ہو گئے۔خیر ان کی استری کو تو آرام آگیا لیکن لڑکا گذر گیا۔اس تکلیف کا بھی خاتمہ نہیں ہوا تھا کہ میری استری اور میرا چھوٹا لڑکا عزیز شوراج بیمار ہو گئے۔میری استری تو ابھی بیمار ہی ہے مگر ہو نہار لڑکا پلیگ کا شکار ہو گیا۔اس مصیبت کو ابھی بھول نہیں گئے تھے کہ ایک ناگہانی مصیبت اور سر آن پڑی اور وہ یہ تھی کہ عزیز 78