حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 61 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 61

حوادث طبعی یا عذاب الہی تک قادیان بھی اس سے محفوظ نہیں رہے گی اسی لیے اس نے آج کے دنوں سے تئیس برس پہلے فرمایا کہ جو شخص اس مسجد میں اس گھر میں داخل ہو گا یعنی اخلاص اور اعتقاد سے وہ طاعون سے بچایا جائے گا۔اسی کے مطابق ان دنوں میں خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا:- اِنّى أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ إِلَّا الَّذِينَ عَلَوْا مِنِ اسْتِكْبَارٍ وَ أَحَافِظُكَ خَاصَّةً - سَلَامٌ قَوْلًا مِنْ رَّبٍ رَّحِيمٍ۔۔۔۔یعنی میں ہر ایک ایسے انسان کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا جو تیرے گھر میں ہو گا مگر وہ لوگ جو تکبر سے اپنے تئیں اونچا کریں۔اور میں تجھے خصوصیت کے ساتھ بچاؤں گا خدائے رحیم کی طرف سے تجھے سلام۔جاننا چاہیے کہ خدا کی وحی نے اس ارادہ کو جو قادیان کے متعلق ہے دو حصوں پر تقسیم کر دیا ہے۔(۱) ایک وہ ارادہ جو عام طور پر گاؤں کے متعلق ہے اور وہ ارادہ یہ ہے کہ یہ گاؤں اس شدت طاعون سے جو افرا تفری اور تباہی ڈالنے والی اور ویران کرنے والی اور تمام گاؤں کو منتشر کرنے والی ہو محفوظ رہے گا۔(۲) دوسرے یہ ارادہ کہ خدائے کریم خاص طور پر اس گھر کی حفاظت کرے گا اور اس کو تمام عذاب سے بچائے گاجو گاؤں کے دوسرے لوگوں کو پہنچے گا اور اس وحی اللہ کا اخیر فقرہ ان لوگوں کے لیے مندر ہے جن کے دلوں میں بے جا تکبر ہے۔66 ( نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۰۲-۴۰۱) ”کچھ شک نہیں کہ اس وقت تک جو تدبیر اس عالم اسباب میں اس گور نمنٹ عالیہ کے ہاتھ آئی وہ بڑی سے بڑی اور اعلیٰ سے اعلیٰ یہ تدبیر ہے کہ ٹیکا کرایا جائے اس سے کسی طرح انکار نہیں ہو سکتا کہ یہ تدبیر مفید پائی گئی ہے اور یہ پابندی رعایت اسباب، تمام رعایا کا فرض ہے کہ اس پر کاربند ہو کر وہ غم جو گورنمنٹ کو ان کی جانوں کے لیے ہے اس سے اس کو سبکدوش کریں لیکن بڑے ادب سے اس محسن 61