حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 60 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 60

حوادث طبیعی یا عذاب الہی ہونے کے کیا کیا خصوصی امتیازات پائے جاتے تھے بہتر ہو گا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ ہی میں ان الہی مواعید اور بشارتوں کا ذکر کیا جائے جو اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیئے۔آپ فرماتے ہیں:۔” چار سال ہوئے کہ میں نے ایک پیشگوئی شائع کی تھی کہ پنجاب میں سخت طاعون آنے والی ہے اور میں نے اس ملک میں طاعون کے سیاہ درخت دیکھے ہیں جو ہر ایک شہر اور گاؤں میں لگائے گئے ہیں اگر لوگ تو بہ کریں تو یہ مرض دو جاڑہ سے بڑھ نہیں سکتی۔خدا اس کو دفع کر دے گا۔مگر بجائے تو بہ کے مجھ کو گالیاں دی گئیں اور سخت بد زبانی کے اشتہار شائع کئے گئے جس کا نتیجہ طاعون کی یہ حالت ہے جو اب دیکھ رہے ہو۔“ اب اس تمام وحی سے تین باتیں ثابت ہوئی ہیں:۔اول یہ کہ طاعون دنیا میں اس لیے آئی ہے کہ خدا کے مسیح موعود سے نہ صرف انکار کیا گیا بلکہ اس کو دکھ دیا گیا اور اس کے قتل کرنے کے لیے منصوبے بنائے گئے اس کا نام کافر اور دجال رکھا گیا۔پس خدا نے نہ چاہا کہ اپنے رسول کو بغیر گواہی چھوڑے۔۔۔۔دوسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی وہ یہ ہے کہ یہ طاعون اس حالت میں فرو ہو گی جبکہ لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول کر لیں گے کم سے کم یہ کہ شرارت اور ایذا رسانی اور بد زبانی سے باز آجائیں گے۔۔۔۔۔تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ خداتعالی بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گوستر برس تک رہے قادیان کو اس کی خوف ناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے اور یہ تمام امتوں وو دافع البلاء، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۲۵-۲۳۰) کے لیے نشان ہے۔“ چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ملک میں عام طاعون پڑے گی اور کسی کم مقدار کی حد 60