حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 62
حوادث طبعی یا عذاب الہی گورنمنٹ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر ہمارے لیے ایک آسمانی روک نہ ہوتی تو سب سے پہلے رعایا میں سے ہم ٹیکا کر اتے۔اور آسمانی روک یہ ہے کہ خدا نے چاہا ہے کہ اس زمانے میں انسانوں کے لیے ایک آسمانی رحمت کا نشان دکھاوے سو اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو اور جو شخص تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہو گا اور وہ جو کامل پیروی اور اطاعت اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائے گا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے اور ان آخری دنوں میں خدا کا یہ نشان ہو گا کہ تاوہ قوموں میں فرق کر کے دکھلاوے لیکن وہ جو کامل طور پر پیروی نہیں کرتا وہ تجھ میں سے نہیں ہے اس لیے مت دل گیر ہو۔یہ حکم الہی ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے نفس کے لیے اور ان سب کے لیے جو ہمارے گھر کی چار دیواری میں رہتے ہیں ٹیکا کی کچھ ضرورت نہیں۔۔۔۔۔اُس نے مجھے مخاطب کر کے یہ بھی فرما دیا کہ عموماً قادیان میں سخت بر بادی افکن طاعون نہیں آئے گی جس سے لوگ کتوں کی طرح مریں اور مارے غم اور سر گردانی کے دیوانہ ہو جائیں اور عموماً تمام لوگ اس جماعت کے گو وہ کتنے ہی ہوں مخالفوں کی نسبت طاعون سے محفوظ رہیں گے مگر ایسے لوگ ان میں سے جو اپنے عہد پر پورے طور پر قائم نہیں یا ان کی نسبت اور کوئی وجہ مخفی ہو جو خدا کے علم میں ہو ان پر طاعون وارد ہو سکتی مگر انجام کار لوگ تعجب کی نظر سے اقرار کریں گے کہ نسبتاً اور مقابلۂ خدا کی حمایت اس قوم کے ساتھ ہے اور اس نے خاص رحمت سے ان لوگوں کو ایسا بچایا ہے جس کی نظیر نہیں۔اس بات پر بعض نادان چونک پڑیں گے اور بعض ہنسیں گے اور بعض مجھے دیوانہ قرار دیں گے اور بعض حیرت میں آئیں گے کہ کیا ایسا خدا موجود ہے جو بغیر رعایت اسباب کے بھی رحمت نازل کر سکتا ہے اس کا جواب یہی ہے کہ ہاں! بلاشبہ ایسا قادر خدا موجود ہے اور اگر وہ ایسا نہ ہو تا تو اس سے تعلق رکھنے والے زندہ ہی مر جاتے وہ عجیب قادر ہے اور اس کی پاک قدر تیں عجیب 62