حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 46 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 46

حوادث طبیعی یا عذاب الہی جاتے ہیں۔طاعون کوئی سالانہ موسمی بیماری نہیں مگر محض یہی کہنے سے بات مکمل نہیں ہوتی۔یہ کوئی ایسی بیماری بھی نہیں جو دو چار یا دس بیس سال کے بعد وبا کی صورت میں ظاہر ہوتی ہو جیسے چیچک وغیرہ متعدی امراض عموما آٹھ دس یا بیس سال کا وقفہ دے کر ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔طاعون ایسی تمام امراض سے اتنی مختلف ہے کہ آپس میں گویا انہیں کوئی نسبت نہیں یہ ایک ایسی پر اسرار بیماری ہے جو ایک دفعہ تباہ کاری مچانے کے بعد جب دنیا سے رخصت ہوتی ہے تو بعض اوقات سینکڑوں سال تک منہ نہیں دکھاتی اور بعض اوقات طاعون کی دوباؤں کا درمیانی عرصہ ہزار برس سے بھی بڑھ جاتا ہے اس لئے بلا شبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ تمام وبائی امراض میں سب سے زیادہ غیر معمولی بیماری طاعون ہے اور اس امر کے زیادہ قریب ہے کہ غیر معمولی عذاب الہی کا مظہر بنے۔انسائیکلو پیڈیا بریٹینکا اور تاریخ کی کتب میں طاعون کے بڑے پیمانے پر ظاہر ہونے کے جو واقعات محفوظ کئے گئے ہیں ان کی رو سے طاعون کی ایک بڑی و با حضرت مسیح کے واقعہ صلیب سے گیارہ سو سال پہلے فلسطین میں ظاہر ہوئی تھی اور اس نے ایک وسیع علاقہ میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔طاعون کا یہ خطرناک حملہ حضرت موسی علیہ السلام کے وصال کے بعد تیسری صدی موسوی میں ہوا۔لہذا یہ امر بعید از قیاس نہیں کہ یہود کے بگڑنے کے بعد بنی اسرائیل کے علاقوں میں طاعون کا پھوٹنا ایک سزا کارنگ رکھتا ہو اور ان معنوں میں اسے عذاب الہی قرار دیا جائے۔اس کے بعد پہلی مرتبہ ایک ہولناک وباء کی صورت میں یہ پہلی صدی عیسوی میں فلسطین اور اس کے گردو پیش کے علاقوں میں ظاہر ہوئی جو بالعموم یہود کا مسکن تھے۔طاعون کا دوسرا حملہ دوسری صدی عیسوی میں ہو ا جو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع علاقے پر پھیلا ہوا تھا اور شام مصر اور لیبیا کے شمالی حصے بھی شدت طاعون سے متاثر ہوئے۔تیسری مرتبہ پھر طاعون کم و بیش ایک سوسال کے بعد تیسری صدی عیسوی میں ظاہر ہوئی اور اس مرتبہ اس کا پھیلاؤ پہلے سے بڑھ کر تھا۔طاعون کا اس طرح پے در پے کم و بیش ایک ایک سوسال کے وقفے سے ظاہر ہونا جبکہ پہلے بارہ سو سال تک اس کا کوئی وجود نہیں ملتا بہت معنی خیز ہے اور ہر گز بعید نہیں کہ ایک ایک سوسال کے مختصر وقفہ میں بار بار پھوٹنا یعنی عیسائیت کی پہلی تین صدیوں میں سے ہر صدی میں اس کا ظاہر 46