حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 45 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 45

حوادث طبیعی یا عذاب الہی اخلاق میں حد سے زیادہ گندی ہو چکی ہو۔چنانچہ ایسے دور میں بھی مشیت الہی کے مطابق بعض اوقات حوادث بڑی شدت کے ساتھ ہجوم کر کے حملہ آور ہو جاتے ہیں اور اس طرح حوادث کو مشیت کے مطابق قوی سزا کے طور پر مسخر کیا جاتا ہے۔قرآن کریم عذاب کی اس نوع کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔وَتِلْكَ الْقُرَى أهْلَكُنْهُمْ لَمَّا ظَلَمُوا وَجَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۔( سورة الكهف : ۶۰) ترجمہ : اور وہ بستیاں جن کو ہم نے ان کے ظلم کی وجہ سے ہلاک کر دیا ہے ان کے لئے موجب عبرت ہو سکتی تھیں۔اور ہم نے ان کو ہلاکت کے لئے پہلے سے ایک معیاد مقرر کر دی تھی تاوہ چاہیں تو تو بہ کر لیں۔وہ عذاب جو محض بد اعمالیوں کی وجہ سے سزا کے طور پر وارد کیا جاتا ہے اس کے لئے اگر عمومی انتباه آسمانی صحیفوں میں موجود ہے لیکن ضروری نہیں کہ اس عذاب سے معا پہلے کوئی پیشگوئی کی جائے اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ وہ عذاب کسی مذہب کے غلبہ پر منتج ہو۔اس ضمنی بیان کے بعد ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بعض ایسی پیشگوئیوں پر نظر ڈالتے ہیں جو اس زمانہ کے انسان کو آنے والے آسمانی عذابوں سے متنبہ کرتی ہیں۔طاعون طاعون بھی بہت سی دوسری بیماریوں کی طرح ایک بیماری ہے جو طبعی محرکات کے نتیجہ میں پیدا ہوتی اور مٹتی رہتی ہے لیکن کبھی یہ عذاب الہی کی شکل بھی اختیار کر لیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بھی اسی طرح ہوا لیکن پیشتر اس کے کہ آپ کی اس عظیم الشان پیشگوئی اور اس کے اثرات پر تفصیلی نظر ڈالی جائے بہتر ہو گا کہ تاریخی پس منظر میں طاعون کی پر اسرار بیماری کا کچھ جائزہ لیا جائے۔طاعون کوئی ایسی بیماری نہیں جو عام و بائی بیماریوں کی طرح روز مرہ مختلف موسموں میں سر نکالتی رہے جیسے ملیریا یا انفلوئنزا گر میوں میں یا سردیوں میں عموما کسی نہ کسی شکل میں نظر آہی 45