حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 47
حوادث طبعی یا عذاب الہی جو ہونا خاص مشیت الہی کے ماتحت ہو۔خصوصاً جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ تینوں مرتبہ طاعون کا حملہ عیسائیت کے پھیلاؤ کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے تو مزید ذہن اس طرف منتقل ہو تا ہے کہ یہ طاعون کی وباء عذاب الہی کی حیثیت رکھتی تھی اور ان قوموں کے لئے سزا کے طور پر وارد ہوئی تھی جنہوں نے عیسائیت پر ہولناک مظالم توڑے۔پہلی صدی میں طاعون کا حملہ فلسطین پر ہوا ج حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کے صحابہ پر توڑے جانے والے انتہائی سنگین اور دردناک مظالم کی پہلی آماجگاہ تھا۔دوسرا حملہ عیسائیت کے پھیلاؤ کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوئے ان مشرقی ممالک میں ہو ا یعنی شام، فلسطین اور مصر جہاں بنی اسرائیل بکثرت پائے جاتے تھے اور جو اولین طور پر عیسائیوں پر ظلم کرنے میں پیش پیش تھے۔تیسرا حملہ اس وقت ہوا جب تیسری صدی میں سلطنت روما کے یورپین حصہ میں بھی عیسائیت پر مظالم توڑے جانے لگے۔اس حملہ میں سلطنت روما کے یورپین ممالک خاص طور پر متاثر ہوئے اور عام طور پر یہ کہا جانے لگا یہ عیسائیوں کی نحوست ہے جس کی وجہ سے طاعون پھوٹی ہے یہ ویسا ہی الزام ہے جیسے قرآن کریم کے بیان کے مطابق اصحاب قریہ نے اپنی طرف مبعوث ہونے والے رسولوں پر لگایا اور کہا کہ ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں لیکن ان رسولوں نے یہ جواب دیا کہ طائر کو معکو ہر گز نہیں بلکہ تم تو اپنی نحوست خود اپنے ساتھ لئے پھرتے ہو۔پس معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیت پر ظلم کرنے والے ظالم جہاں جہاں بھی ظلم کی نحوستیں ساتھ لے کر گئے وہیں وہیں طاعون نے ان کا تعاقب کیا اور عبرتناک سزادی۔عذاب الہی سے دوسری مماثلت ان تینوں وباؤں میں یہ نظر آتی ہے کہ باوجود اس کے کہ عیسائی کمزور اور غریب تھے اور جیسا کہ گزر چکا ہے بسا اوقات اندھیری غاروں میں پناہ لینے پر مجبور ہو جاتے تھے۔لہذا اگر عام حوادث زمانہ کی نوعیت کی کوئی چیز ہوتی اور الہی تصرف نہ ہو تا تو سب سے پہلے سب سے زیادہ کمزور اور غریبانہ زندگی بسر کرنے والے اور تاریک غاروں میں بسنے والے عیسائیوں کو اس مرض کا شکار ہونا چاہئے تھا لیکن یہ عجیب بات نظر آتی ہے کہ طاعون کے یہ حملے ہر بار عیسائیت کو پہلے سے قوی تر حالت میں چھوڑ گئے۔یہاں تک کہ ۷۵۔۲۷۰ عیسوی میں یعنی تیسری صدی کے آخر پر طاعون کا جو تیسر احملہ ہوا اس نے آخری مرتبہ عیسائیت کو کمزور حالت 47