نصائح مبلغین — Page 24
24 تقویٰ کی تعریف اللہ تعالیٰ سورہ مائدہ میں فرماتا ہے۔وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاسْمَعُوا وَاللَّهُ لَا يَهْدِى ط الْقَوْمَ الْفُسِقِينَ (المائدہ: ۱۰۹) اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اچھی طرح اس کے احکام کی فرمانبرداری کرو۔اور اللہ نافرمان لوگوں کو کامیاب نہیں کرتا اس آیت سے ظاہر ہے کہ تقوی فرمانبرداری کا نام ہے۔فرمانبرداری کس طرح پیدا ہو اور فرمانبرداری محبت کی وجہ سے کی جاتی ہے یا خوف کی وجہ سے۔محبت حسن واحسان کے مطالعہ سے پیدا ہوگی اور خوف جلال کے مطالعہ سے۔چونکہ انسانی فطرت میں بھی دو باتیں ہیں اس لئے سورہ فاتحہ میں ان دونوں سے کام لیا گیا ہے۔فرماتا ہے۔الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ یہ تمام احسان یاد دلا کر کہ ایک پہلو سے یہی حسن بھی ہے، لوگوں کو اپنی فرمانبرداری کی طرف متوجہ کیا ہے۔چونکہ بعض طبائع بجز خوف دلانے کے فرمانبرداری نہیں کرتیں۔اس لئے ان کے لئے فرما یا۔ملِكِ يَوْمِ الدین یعنی جزاء وسزا کا بھی میں مالک ہوں۔تقویٰ انبیاء کی بعثت سے الغرض فرمانبرداری کامل محبت یا کامل خوف پر ہے۔اور اس کے لئے اللہ نے دو سامان مقرر کئے ہیں ایک آسمانی ایک زمینی۔آسمانی سامان جس سے لوگوں میں