نصائح مبلغین

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 30

نصائح مبلغین — Page 25

25 فرمانبرداری یا تقویٰ پیدا ہو وہ انبیاء کی بعثت ہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب دیکھا کہ تقویٰ کی روح دنیا سے گم ہو چلی ہے تو انہوں نے اپنے مولیٰ کے حضور گڑ گڑا کر دعا کی۔رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايَتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ، إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقره: 130) اے ہمارے رب ان میں ایک رسول انہی میں سے مبعوث کر۔جو ان پر تیری آیتیں پڑھ کر سناوے اور ان کو کتاب وحکمت سکھائے اور ان کا تزکیہ کرے تحقیق تو عزیز وحکیم ہے۔یہ دعا قبول ہوئی اور ایک رسول مبعوث ہوا جس نے اکھڑ سے اکھڑ قوم میں فرمانبرداری کی روح پیدا کر دی۔انبیاء کا ہاتھ خدائے قدوس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اس لئے جو ان سے تعلق پیدا کرتا ہے وہ بھی پاک کیا جاتا ہے۔ان کی مثال بجلی کی بیٹری سی ہے کہ جس کا ذرا بھی تعلق اس کے ساتھ ہوا وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہا۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ ہزاروں ٹمپرنس سوسائٹیاں اتنے سالوں سے کام کر رہی ہیں ان کا کوئی قابل ذکر فائدہ نہیں۔مگر محمد رسول الله لا لا الایام کے دربار سے ایک آواز اٹھتی ہے اور تمام بلا استثناء شراب کے مٹکے لنڈ ہا دیتے ہیں۔مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ دنیا کے ادنی نفع کے لئے دین کو متأخر کرنے پر تیار ہیں مگر انہی مسلمانوں میں سے ”عبد اللطیف“ ایک نبی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتا ہے اور پھر دین پر اپنی جان تک قربان کر دیتا ہے۔امیر کابل کی طرف سے ایماء ہوتا ہے کہ صرف ظاہر داری کے لئے کہہ دو میں مرزا کو مسیح نہیں مانتا مگر وہ سنگسار ہونا پسند کرتا ہے اور یہ کلمہ زبان پر نہیں لاتا۔ایسا کیوں ہوا؟ اس لئے کہ وہ آسمانی ذریعہ سے پاک کیا گیا۔دوسرا ذریعہ زمینی ہے۔جس سے مراد انسان کا اپنی طرف سے مجاہدہ ہے۔اس وقت روح انسانی کی حالت اس گھوڑے کی طرح ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ سدھایا جاتا ہے اس