نصائح مبلغین

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 30

نصائح مبلغین — Page 10

10 کھولا تو معلوم ہوا کہ دوسو روپیہ ہے۔تو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی حاجات کو جو اس پر توکل رکھتے ہیں اس طرح پورا کیا کرتا ہے۔تم کبھی دوسرے پر بھر وسانہ رکھو۔سوال ایک زبان سے ہوتا ہے اور ایک نظر سے۔تم نظر سے بھی کبھی سوال نہ کرو۔پس جب تم ایسا کرو گے تو پھر خدا تعالیٰ خود سامان کرے گا۔اس صورت میں جب کو ئی تمہیں کچھ دیگا بھی تو دینے والا پھر تم پر احسان نہیں سمجھے گا بلکہ تمہارا احسان اپنے اوپر سمجھے گا۔لوگوں سے تعلقات مبلغ کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر خادمانہ حیثیت رکھے۔لوگوں نے یہ نکتہ نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا ہے۔بعض نے سمجھا کہ نوکر چاکروں کی طرح کام کرے۔یہ مراد نہیں۔اس غلط نہی کی وجہ سے ملانے پیدا ہوئے جن کے کام مُردے نہلا نا ہوا کرتا ہے۔کوئی بیمار ہو جائے تو کہتے ہیں بلاؤ میاں جی کو وہ آکر اس کی خدمت کریں۔کھیتی کاٹنی ہو تو چلو میاں جی۔گو یا میاں جی سے وہ نائی دھوبی جس طرح ہوتے ہیں اس طرح کام لیتے ہیں۔دوسری صورت پھر پیروں والی ہے۔پیر صاحب چار پائی پر بیٹھے ہیں، کسی کی مجال نہیں کہ پیر صاحب کے سامنے چار پائی پر بیٹھ جاوے۔حافظ صاحب سناتے تھے ان کے والد بھی بڑے پیر تھے لوگ ہمیں آکر سجدے کیا کرتے تھے۔تو میں نے ایک دفعہ اپنے باپ سے سوال کیا کہ ہم تو مسجد میں جا کر سجدے کسی اور کے آگے کرتے ہیں اور یہ لوگ ہمیں سجدے کرتے ہیں اس پر میرے والد نے ایک لمبی تقریر کی۔تو ایک طرف کا نتیجہ