نصائح مبلغین

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 30

نصائح مبلغین — Page 11

11 میاں جی پیدا ہوئے جو جھوٹی گواہی دینی ہوئی تو چلو میاں جی۔اور اگر انکار کریں تو کہہ دیا کہ تمہیں رکھا ہوا کیوں ہے۔آپ قیامت کے دن کیا خاک کام آئیں گے جو اس دنیا میں کام نہ آئے۔اور دوسری طرف پیر صاحب جیسے پیدا ہو گئے تو دونوں کا نتیجہ خطرناک نکلا۔یہ بڑی نازک راہ ہے۔مبلغ خادم ہوا اور ایسا خادم ہو کہ لوگوں کے دل میں اس کا رعب ہو۔خدمت کرنے کے لئے اپنی مرضی سے جائے۔ڈاکٹر پاخانہ اپنے ہاتھوں سے نکالتے ہیں لیکن کوئی انہیں بھنگی نہیں کہتا۔ڈاکٹر اپنے ہاتھوں سے بنا کر دوائی بھی پلاتے ہیں لیکن کوئی انہیں کمپونڈر نہیں کہتا۔وہ بیمار کی خاطر داری بھی کرتے ہیں لیکن کوئی انہیں ان کا خادم نہیں کہتا۔یہ اس کی شفقت سمجھی جاتی ہے۔اس لئے جب تم میں بھی تو کل ہوگا اور تم کسی کی خدمت کسی بدلے کے لئے نہیں کرو گے تو پھر تمہاری بھی ایسی ہی قدر ہوگی۔وہ شفقت سمجھی جائے گی۔وہ احسان سمجھا جائے گا۔اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو اس کی تشفی دینے والا ہمارا مبلغ ہو۔کوئی بیوہ ہو تو حسب ہدایات شریعت اسلامیہ اس کا حال پوچھنے والا اس کا سودا وغیرہ لانے والا اور اس کے دیگر کاروبار میں اس کی مدد کرنے والا ہمارا مبلغ ہو۔اسکا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کے دلوں میں دو چیزیں پیدا ہوں گی۔ادب ہو گا اور محبت ہوگی۔توکل کا نتیجہ ادب ہو گا اور خدمت کا نتیجہ محبت ہوگی۔مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ ایک طرف اگر ان میں دنائت نہ ہو تو دوسری طرف متکبر بھی نہ ہو۔لوگ نوکر اس کو سمجھیں گے جو ان سے سوال کرتا ہو۔جو سوال ہی نہیں کرتا اس کو وہ نوکر کیونکر سمجھیں گے۔اگر وہ اس کے پاس آئیں گے تو نو کر سمجھ کر نہیں بلکہ ہمدرد سمجھ کر۔اگر اس سے کچھ پوچھیں گے تو ہمدرد سمجھ کر۔اس وقت پھر مبلغ کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ میں نوکر نہیں انہوں نے تو اسے نوکر نہیں سمجھا ہے وہ تو اسے ہمدرد سمجھ کر