نصائح مبلغین

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 30

نصائح مبلغین — Page 9

9 کو خواب دکھاتا ہے اس طرح اس کی ضرورت پوری کرتا ہے۔لیکن کبھی اس طرح پر بھی ہوتا ہے کہ وہ ضرورت ہی نہیں رہتی۔ابتدائی مرحلہ یہی ہے کہ اس کی ضروریات ہی نہیں بڑھتیں اور اگر ضروریات پیش آتی ہیں تو پھر ایسے سامان کئے جاتے ہیں کہ وہ مٹ جاتی ہیں۔مثلاً ایک شخص بیمار ہے، اب اس کے لئے دوائی وغیرہ کے لئے روپوں کی ضرورت ہے۔دعا کی ، بیمار ہی اچھا ہو گیا تو اب روپوں کی ضرورت ہی پیش نہ آئی۔تو ابتدائی مرحلہ یہی ہے کہ ضرورت پیش ہی نہیں آتی۔پہلی حکمت یہ ہے کہ وہ لوگوں کا محتاج ہی نہیں ہوتا۔دوسری حکمت یہ ہے کہ لوگوں کا رجوع اس کی طرف ہو جاتا ہے۔خدا خود لوگوں کے ذریعے سے سامان کراتا ہے۔ہمارے سلسلے کے علماء اور دوسرے مولویوں کا مقابلہ کر کے دیکھ لو ان کو لوگ خود نذر پیش کرتے ہیں۔اور مولوی مانگتے پھرتے ہیں۔ایک پیر تھا وہ ایک اپنے مرید کے گھر گیا وہ مریدا سے جب وہ آتا تھا ایک روپیہ دیا کرتا تھا۔اس دن اس نے ایک اٹھنی پیش کی۔پیر نے لینے سے انکار کیا اور کہا کہ میں تو رو پیدلوں گا۔غرض وہ اٹھنی دیتا تھاوہ روپیہ مانگتا تھا۔بہت تکرار کے بعد اس مرید نے کہا جاؤ میں نہیں دیتا۔تمام رات وہ پیر باہر کھڑا رہا رات کو بارش ہوئی تھی اس میں بھیگا۔صبح کہنے لگا کہ اچھالا ؤ ٹھنی۔تو یہ حالت ہوتی ہے جو دوسروں کے محتاج ہیں۔زلزلے کا ذکر ہے باہر باغ میں ہم ہوتے تھے۔حضرت صاحب کو ایک ضرورت پیش آئی۔فرمانے لگے قرض لے لیں پھر فرمانے لگے قرضہ ختم ہو جائے گا۔تو پھر کیا کریں گے چلو خدا سے مانگیں نماز پڑھ کر جب آئے تو فرمانے لگے ضرورت پو ری ہو گئی۔ایک شخص بالکل میلے کچیلے کپڑوں والا نماز کے بعد مجھے ملا۔السلام علیکم کر کے اس نے ایک تھیلی نکال کر دی۔اس کی حالت سے میں نے سمجھا کہ یہ پیسوں کی تھیلی ہوگی