نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل

by Other Authors

Page 3 of 32

نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل — Page 3

2 1 بالله الحالي عبادت کا عمومی فلسفہ فو انسان کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے تا کہ اس کے ذریعہ خالق دو جہان کے وجود کا ظہور اور اس کی صفات کا نمود ہو، اسرار فطرت اور راز ہائے قدرت کھل کر سامنے آجائیں یعنی انسان خدا نما وجود بنے اور مظہر صفات باری بن کر تخلیق کائنات کی غرض وغایت پوری کرے۔اس لئے انسان کو عبد کہا گیا ہے کیونکہ عبادت کے ایک معنے کسی کا نقش قبول کرنے کے ہیں اور انسان کو ایسے ملکوتی قومی اور اعلیٰ اقدار ودیعت ہوئے ہیں جن کی مدد سے حد بشریت کے اندر رہتے ہوئے جہاں تک اس کے لئے ممکن ہے وہ صفات الہیہ کا پورا نقشہ پیش کر سکتا ہے اور ان کو اپنے اندر پیدا کرنے کی پوری پوری اہلیت رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: ۵۷) یعنی میں نے جن وانس کو صرف عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اس لئے کہ وہ میرے ظہور کا موجب اور میری صفات کا مظہر بنیں۔اس آیت کریمہ کی تفسیر وہ حدیث قدسی کرتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كُنتُ كَنزًا مَخْفِيًا فَارَدْتُ اَنْ أُعْرَفَ فَخَلَقْتُ ادَمَ لِ یعنی میں ایک مخفی خزانہ تھا۔پھر میں نے ارادہ کیا میں پہچانا جاؤں۔اس کرامات الصادقین ص ۱۴۶، ملفوظات ۲۱/۶ تفسیر کبیر ا۔۱۸/۱ ولغات القرآن مزيل الخفا والا لباس مصنفہ اسماعیل بن محمد العجلانی جلد ۲ ص ۱۳۲ لئے میں نے آدم کو پیدا کیا۔اس کی مزید وضاحت آنحضرت مہ کے اس ارشاد میں ہے کہ : - إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ ادَمَ عَلَى صُورَتِهِ ! یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ان ارشادات کا یہی مطلب ہے کہ انسان کی پیدائش کا مقصد ذات باری کا ظہور اتم ہے کیونکہ وہ صفات الہیہ کا مظہر بن سکتا ہے اور اس کی قدرت کے اسرار پر سے پردہ اٹھانے کی ذہنی استعداد لے کر پیدا ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ استنباط، ایجادات اور نئے نئے انکشافات کی جو قابلیتیں انسان کو ودیعت کی گئی ہیں وہ کسی دوسری مخلوق کو عطا نہیں ہوئیں۔حقیقی معنوں میں اللہ تعالیٰ کے عبد کہلانے کی راہ یہ بھی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے جذبات تشکر کا اظہار کرے اور اس کے احسانوں کا اپنی زبان سے اقرار کرے کیونکہ انسان فطرتا اپنے محسن کا شکر یہ ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے۔”جُبِلَتِ الْقُلُوبُ عَلَى حُبِّ مَنْ أَحْسَنَ إِلَيْهَا “ یعنی انسان کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ وہ اپنے محسن سے محبت کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بنے کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان گناہوں اور بدیوں سے نجات پا جائے اور اپنے دل کو پاک کر لے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک لوگ ہی اس کی بارگاہ میں بار پاسکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تمام مقررہ عبادات میں یہ بات مدنظر رکھی گئی ہے کہ ان کے ذریعہ نفس انسانی بدیوں سے پاک ہو جائے اور اسے ایسی طاقت مل جائے کہ وہ مختلف قسم کے ہوا و ہوس چھوڑنے کے قابل ہو جائے۔ایک طرف اللہ تعالیٰ سے اس کے تعلقات درست ہو جائیں اور دوسری طرف مخلوق الہی سے اس کے معاملات بالکل درست اور صاف رہیں۔ا مسند احمد ص ۲۲۴، ص ۳۲۵، جلد ۲ حدیث نمبر ۷۳۱۹ جامع الصغير للسيوطی ۱/ ۱۲۰ بحوالہ بیہقی فی شعب الایمان