نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل — Page 4
4 اسلامی عبادت کی اقسام اصولی طور پر عبادت دو قسموں میں منقسم ہے۔عام عبادت اور خاص عبادت۔عام عبادت کا تعلق بالعموم حقوق العباد سے ہے۔اس لحاظ سے انسان جو کام بھی خواہ وہ ذاتی ہو یا اجتماعی خداوند تعالیٰ کی خاطر اور اس کی رضا حاصل کرنے کیلئے کرے اور وہ خدمت انسانیت سے متعلق ہو۔اسلامی نظریہ کے مطابق وہ عبادت ہے اور اس پر ثواب ملتا ہے۔عبادت کے بنیادی مقاصد کو صحیح معنوں میں حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خاص عبادت کا بھی حکم دیا ہے۔یہ خاص عبادت پانچ حصوں میں منقسم ہے جنہیں ارکان اسلام کہتے ہیں یعنی اسلام کے ایسے ستون جن پر اسلام کی عمارت استوار ہے۔ارکان اسلام ارکان اسلام میں سے پہلا رکن کلمہ شہادت ہے یعنی یہ اعتراف کرنا اور گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود و محبوب نہیں اور محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔وہی اللہ تعالیٰ کا پیغام لائے ہیں اور اسلام کے سارے احکام انہوں نے ہی آکر بتائے ہیں۔ان ارکان میں سے دوسرا رکن نماز پڑھنا۔تیسرا ز کوۃ دینا ، چوتھا رمضان کے روزے رکھنا اور پانچواں خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے مکہ جانا یعنی حج کرنا۔فرضیت نماز نماز ہر عاقل و بالغ مسلمان پر فرض ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ فاتر العقل اور مجنون پر دیگر احکام کی طرح نماز بھی فرض نہیں ہے نماز کی اہمیت سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ بخضرت علیہ کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہمیں نماز معاف فرما دی جائے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں۔مویشی وغیرہ کے سبب سے کپڑوں کا کوئی اعتماد نہیں ہوتا اور نہ ہمیں فرصت ہوتی ہے تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ دیکھو جب نماز نہیں تو ہے ہی کیا ؟ وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔نماز کیا ہے؟ یہی کہ اپنے عجز و نیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا۔کبھی اس کی عظمت اور اس کے احکام کی بجا آوری کے واسطے دست بستہ کھڑا ہونا اور کبھی کمال مذلت اور فروتنی سے اس کے آگے سجدہ میں گر جانا اس سے اپنی حاجات کا مانگنا یہی نماز ہے۔ایک سائل کی طرح کبھی اس مسئول کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے تو ایسا ہے۔اس کی عظمت اور جلال کا اظہار کر کے اس کی رحمت کو جنبش دلانا اور پھر اس سے مانگنا۔پس جس دین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے۔انسان ہر وقت محتاج ہے کہ اس سے اس کی رضا کی راہیں مانگتا رہے۔اور اس کے فضل کا اسی سے خواستگار ہو۔۔۔خدا کی محبت اسی کا خوف اسی کی یاد میں دل لگارہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے۔اصل میں قاعدہ ہے کہ اگر انسان نے کسی خاص منزل پر پہنچنا ہے اس کے واسطے چلنے کی ضرورت ہوتی ہے جتنی لمبی وہ منزل ہوگی اتنا ہی زیادہ تیزی کوشش اور محنت اور دیر تک اسے چلنا ہو گا۔سوخدا تعالیٰ تک پہنچنا بھی تو ایک منزل ہے اور اس الحکم نمبر ۱۲ جلد۷ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۸،۷