نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل

by Other Authors

Page 11 of 32

نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل — Page 11

18 17 رہتے ہیں ان کا قبلہ کعبہ اور مسجد الحرام کی جہت ہے۔ان کے لئے عین عمارت کعبہ کی طرف منہ کرنا ضروری نہیں اور نہ ہی آسانی سے ایسا کرنا ممکن ہی ہے۔خوف کی حالت ہو یا انسان کسی ایسی سواری پر سفر کر رہا ہو جسے ٹھہرانا اس کے اپنے اختیار میں نہیں یا ٹھہرانا موجب حرج ہے اور چلتے ہوئے صحیح قبلہ کی طرف منہ کرنا خاصا مشکل ہے یا سفر ہوائی جہاز کا ہے یا کسی دوسرے سیارہ میں انسان جا بسا ہے ایسی تمام صورتوں میں جدھر آسانی ہو اس طرف منہ کر کے نماز پڑھ لینا جائز ہے۔لے نماز کی پانچویں شرط۔نیت صحت نماز کے لئے نیت بھی ضروری ہے۔نیت کے معنے ارادہ کے ہیں۔نماز شروع کرتے وقت دل میں یہ ارادہ ہونا چاہئے کہ وہ کس وقت کی اور کون سی نماز پڑھ رہا ہے۔کیونکہ جس نماز کی نیت ہوگی وہی نماز اس کی ہوگی۔ظہر کے وقت اگر نیت یہ ہے کہ چار رکعت فرض شروع کرنے لگا ہے تو فرض نماز ہوگی۔اگر نیت چار رکعت یا دوسنت کی ہے تو سنت نماز ہو گی۔نیت کا تعلق دل سے ہے۔اس لئے دل میں یہ طے ہونا چاہئے کہ وہ کس وقت کی اور کتنی رکعت نماز شروع کرنے لگا ہے۔منہ سے نیت کے الفاظ ادا کر نے ضروری نہیں۔البتہ آنحضرت علی تکبیر تحریمہ کے بعد اور سورۃ فاتحہ سے قبل درج ذیل دعا ئیں بھی پڑھا کرتے تھے۔یہ دعائیں پڑھنا بھی موجب ثواب ہے۔وَجْهُتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَواتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَّ مَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ (البقره: ۱۱۲) إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ نماز پڑھنے کا طریق اسلامی نماز : اسلام میں نماز کی جو صورت متعین ہوئی ہے اس سے بڑھ کر مقبول و متبوع صورت نہ تو کسی اور مذہب میں رائج ہے اور نہ ہی اس سے بہتر عقل میں آ سکتی ہے۔یہ جامع اور مانع طریق ان تمام عمدہ اصولوں اور مسلمہ خوبیوں اور فطری استعدادوں پر حاوی ہے جو دنیا کے اور مذاہب میں فرداً فرداً موجود ہیں اور نیازمندی کے ان تمام آداب میں شامل ہے جو ذ والجلال معبود کے سامنے قوائے انسانی میں پیدا ہونے ممکن ہیں۔اسی طرح وہ خاص کلمات جو نماز میں صرف زبان سے نہیں بلکہ دل سے بھی نکالے جاتے ہیں اور جس سے روح انسانی متاثر ہوتی ہے نماز کی بے نظیری کے کافی ثبوت ہیں۔طریق نماز : جو شخص نماز پڑھنے لگے وہ پاک بدن اور پاک لباس کے ساتھ جس وقت کی نماز پڑھنا چاہتا ہے اس کی دل میں نیت کر کے قبلہ رو کھڑا ہو جائے اس کے بعد اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے اور ساتھ ہی الله اكبر (اللہ سب سے بڑا ہے ) کہے۔اس تکبیر کو تکبیر تحریمہ کہتے ہیں۔پھر اپنے ہاتھ سینہ کے نچلے حصہ کے قریب اس طرح باندھے کہ دایاں ہاتھ اوپر اور بایاں نیچے ہو۔اس طرح کھڑے ہونے کو قیام کہتے ہیں۔اس کے بعد ثناء پڑھے:۔شرح السنة جلد ۳ صفحه ۳۴ مسلم كتاب الصلواة باب الدعا في صلواة الليل وقيام