نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل — Page 10
16 15 مارے اور ان کو پہلے منہ پر پھیرے اور پھر دونوں ہاتھوں پر۔اگر ہاتھوں پر زیادہ مٹی لگ جائے تو مسح کرنے سے پہلے اسے پھونک سے اُڑانا جائز ہے۔غسل واجب کے لئے بھی اسی طرح تیم کیا جاتا ہے۔جس طرح وضو کے لئے کیا جاتا ہے۔جن باتوں سے وضوٹوٹ جاتا ہے ان سے تمیم بھی ٹوٹ جاتا ہے۔علاوہ ازیں پانی کے مل جانے یا اس کو استعمال کر سکنے کی صورت میں بھی تیم باقی نہیں رہے گا۔پانی اور اس کے مسائل : طہارت حاصل کرنے کا بڑا اور اصل ذریعہ پانی ہے۔پاک صاف پانی استعمال کرنا چاہئے۔بارش، چشمے کنوئیں ، تالاب، دریا اور سمندر کا پانی پاک ہے۔دوسری چیز میں اس سے دھوئی اور پاک کی جاسکتی ہیں۔صحت کے اعتبار سے جو پانی مضر ہے مثلاً اس میں پتے گل سڑ جائیں یا کیڑے وغیرہ پڑ جائیں تو اسے صاف کر لینا چاہئے اور اس کے بعد استعمال میں لانا چاہئے۔نماز کی تیسری شرط۔ستر عورت یعنی پردہ پوشی عمدہ لباس سے انسان معز ز لگتا ہے۔اس لئے پاک وصاف اور ستھر الباس پہن کر انسان خدا کے دربار میں جائے اور اس کے حضور نماز ادا کرے۔مرد کے لئے ناف سے لے کر گھٹنوں تک کے جسم کی پردہ پوشی اشد ضروری ہے ورنہ نماز صحیح نہ ہوگی۔عورت نماز پڑھتے وقت صرف چہرہ ، پہنچوں تک ہاتھ اور ٹخنوں تک پاؤں ننگے اور کھلے رکھ سکتی ہے۔اس کے بال ، بانہیں اور پنڈلیاں اور جسم کا باقی حصہ پردہ میں اور ڈھکا ہوا ہونا چاہئے۔باریک کپڑا جس سے جسم نظر آئے تنگ اور چست لباس جس سے سجدہ کرنے میں دقت ہو، ناپسندیدہ ہے۔نماز کی چوتھی شرط۔قبلہ قبلہ کی حکمت : نماز میں کعبہ کی طرف منہ کرنے کے یہ معنی نہیں کہ مسلمان نعوذ باللہ اس عمارت کی پرستش کرتے ہیں اور اسے پوجتے ہیں۔مسلمان تو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔صرف اسی کو اپنا کارساز اور خالق و مالک مانتے ہیں۔دراصل کعبہ کو قبلہ مقرر کرنے میں یہ حکمت ہے کہ نماز ایک مخصوص اجتماعی عبادت ہے جس میں بیجہتی اور اتحاد عمل کو خاص طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے تا کہ سب کی توجہ ایک طرف رہے۔اس لئے نماز پڑھنے کے وقت اس مقام کو سمت نماز اور قبلہ مقرر کیا گیا ہے جسے توحید الہی کے لئے پہلا اور اصلی مرکز ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے جہاں خدا وند تعالیٰ کی وحدانیت کے گیت گائے گئے ، جہاں سے تبلیغ تو حید کا آغاز ہوا اور جس جگہ ایسی قربانیاں دی گئیں جو تاریخ عالم میں بے مثال ہیں۔مسائل قبلہ : نماز میں قبلہ کی طرف منہ کرنا ضروری ہے۔قبلہ سے مراد وہ مقدس کمرہ ہے جو مکہ مکرمہ میں موجود ہے جسے کعبہ اور بیت اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کا گھر بھی کہتے ہیں۔جب سے مذہب کی ابتداء ہوئی ہے دنیا میں یہ پہلی عمارت ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کی خاطر بنائی گئی۔روایت ہے کہ یہ مقدس عمارت تمام انبیاء کا قبلہ رہی۔حضرت آدم علیہ السلام اور دوسرے انبیاء نے اس کا حج کیا۔جن لوگوں کو کعبہ کی عمارت نظر نہیں آتی ، دور ہیں یا دوسرے ممالک میں ل إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ ( آل عمران: ۹۷) طبری تاریخ الوفا جلد ۲ صفحہ ۱۶۷ بحوالہ الفضل ۲۲ اپریل ۱۹۶۶ء