نماز — Page 27
سے پہلے حاجات ضرور یہ سے فارغ ہو لینا چاہئے تاکہ توجہ سے ادا کی جاسکے۔با جماعت میں صفیں بالکل سیدھی ہوں۔صفوں میں کھڑے افراد کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں اور درمیان میں خالی جگہ نہ ہو۔لوگ جب صفیں بنا ئیں اور انہیں اپنی صف سے اگلی صف میں خالی جگہ نظر آئے تو اسے پر کریں۔شروع کرنے سے پہلے کی نیت پڑھیں وَجَهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ کا تمام عمل اطمینان اور وقار کے ساتھ ادا کریں۔جلدی جلدی ادا نہ کریں۔کے الفاظ ٹھہر ٹھہر کر اور سنوار کر ادا کریں اور توجہ کے الفاظ اور ان کے مطالب کی طرف رہے کوشش کریں کہ حتی الوسع ادھر ادھر کے خیالات ذھن میں نہ آئیں۔میں ادھر اُدھر دیکھنا، اشارہ کرنا، باتیں کرنا ، باتیں سننا وغیرہ اور غیر ضروری حرکت کرنا منع ہے۔ادا کرتے ہوئے کسی چیز کا سہارا لینا منع ہے اور نہ ہی ایک پاؤں پر زور دیکر کھڑا ہونا چاہئے۔ہمیشہ چستی اور توجہ سے ادا کریں سستی اور کاہلی سے نہیں۔با جماعت ادا کرتے ہوئے امام کی حرکت سے پہلے کوئی حرکت نہ کریں بلکہ امام کی مکمل پیروی کریں۔سے فارغ ہونے کے بعد فورا نہیں اُٹھ جانا چاہئے بلکہ تھوڑی دیر ذکر الہی میں گزاریں۔کوئی پڑھ رہا ہو تو اس کے پاس شور کرنا یا اونچی آواز میں باتیں کرنا منع ہے۔(27)